پاکستان تنازع: امپائروں کو تنبیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی آئی کے سینئر اہلکار رانجن مدوگالے نے متنبیہ کیا ہے کہ امپائروں کو آئندہ کسی میچ کے تادیبی فیصلے سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیئے۔ بال ٹیمپرنگ کے تنازع کے بعد، پاکستانی ٹیم کے میدان میں تاخیر آنے پر امپائر ڈیرل ہیئر اور بلی ڈاکٹرو نے اوول ٹیسٹ کا تادیبی فیصلے کرتے ہوئے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا تھا۔ مدوگالے نے کہا ہے کہ امپائروں کو کشیدگی دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے چاہیئے اور ٹیموں کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ کسی ٹیم کو اگر شکایت ہو تو وہ اس کا اظہار آئی سی سی کے ذریعے کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کسی ٹیم کا کھیل میں رکاوٹ ڈالنا کھیل کے مفاد میں نہیں ہے‘۔ آئی سی سی کی طرف سے انضمام کے خلاف نظم و ضبط کی شکایت کے معاملے کی سماعت کرنے والے امپائر مدوگالے انضمام کو بال خراب کرنے کے الزام سے بری قرار دے چکے ہیں لیکن انہوں نے انضمام کو اپنے احتجاج کے لیئے کھیل کو متنازع بنانے کا مرتکب قرار دیا ہے اور انضمام پر چار ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی پابندی لگائی ہے۔ فیصلے کے بعد کیئے گئے اس تبصرے کو امپائروں پر مدوگالے کی تنقید ہی تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ’میرے فیصلے کو ایک ایسی حساس و دشوار صورتِ حال کا سامنا تھا جو نہ صرف چابک دستانہ حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی تھی بلکہ ضوابط کا کڑا اطلاق بھی چاہتی تھی‘۔
انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ’امپائروں کو اس وقت تک کھیل کے میدان سے جانا یا میچ کا تادیبی فیصلے نہیں کرنا چاہیئے جب تک کہ انہیں اس بات کا مطلق یقین نہ ہو جائے کہ ایک ٹیم باقی کھیل قطعاً کھیلنا نہیں چاہتی‘۔ مدوگالے کا کہنا ہے کہ ’امپائروں کو کھیل جاری رکھنے کے لیئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے اور اس میں ٹیموں کو کپتانوں اور منتظمیں کو شامل کرنا چاہیئے‘۔ پاکستان نے آسٹریلوی امپائر ہیئر کو تمام باتوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور اسی بنا پر انہیں آئی سی سی چمپئن ٹرافی سے الگ کر دیا گیا ہے اور اب ان کا مستقبل مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برخلاف امپائر بلی ڈاکٹرو کا کہنا ہے کہ ’میں اب بھی امپائر ہوں‘۔ انگلینڈ کے سابق بیٹسمین جیفری بائیکاٹ نے اس تنازع میں ہیئر کے کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماعت میں ایک اہم گواہ کی حیثیت سے حصہ لینے والے بائیکاٹ کا کہنا ہے کہ ’ہیئر پہلے امپائر ہیں جنہوں نے بال ٹیمپرنگ پر پانچ رن کی سزا کا استعمال کیا ہے اور ان کا فیصلہ غلط ثابت ہوا ہے‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ ہیئر کسی میچ کا تادیبی فیصلے کرنے میں بھی پہل کی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ اس میں بھی غلط ثابت ہوں گے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کوئی ایسا فیصلہ کرنا ہی تھا جس کا کھیل کی تمام تار و پود پر اثر پڑ سکتا ہو تو بہتر یہ تھا کہ ان کی پاس کوئی ٹھوس شہادت بھی ہوتی۔ بائیکاٹ ہیئر پر اپنی بااختیار حیثیت کے ناجائز فائدے کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پورے معاملے سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ قوانین میں تبدیلی ہونی چاہیئے اور امپائروں کو خدا جیسا رویّہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ |
اسی بارے میں انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل بال ٹیمپرنگ اور قانونی چارہ جوئی23 August, 2006 | کھیل بال ٹیمپرنگ الزامات کی تاریخ21 August, 2006 | کھیل بال ٹیمپرنگ تنازعہ: میچ اورسیریزختم20 August, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||