BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 September, 2005, 00:52 GMT 05:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہ ’بلیز‘ ہیں، ہم مقابلہ کریں گے‘
پیٹرسن، شین وارن کے دوست ہیں مگر ایشیز میں ایک دوسرے سے رقابت رہی
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ آسٹریلیا کے خلاف پانچویں اور آخری ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کی ٹیم میں کیون پیٹرسن کی شمولیت بہت غوروفکر اور گو مگو کے بعد کی گئی تھی۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اوول کے میدان میں پیر بارہ ستمبر کی شام کیون پیٹرسن ہی کے نام لکھی گئی ہے۔

انہیں ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ اس لیے مشکل تھا کہ گراہم تھورپ کو باہر رکھنے میں انگلینڈ ٹیم کے سلیکٹرز ہچکچا رہے تھے کیونکہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ تھورپ ایسے کھلاڑی ہیں جو اس وقت بھی کھیل سکتے ہیں جب ٹیم پر بنی ہوئی ہو۔

لیکن اب انگلینڈ ٹیم کے چیف سلیکٹر ڈیوڈ گریوینی کہتے ہیں: ’ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پیٹرسن انگلینڈ کے لیے دنیا کے بہترین مڈل آڈر بلے باز ثابت ہو سکتے ہیں اور وہ ایسے کھلاڑی ہیں جو میچ جیتا کرتے ہیں۔‘

پانچ سیریز کے آخری میچ کے آخری دن کی دوپہر اوول میں کیون پیٹرسن نے ثابت کردیا کہ سلیکٹرز نے انہیں ٹیم میں شامل کر کے درست فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے پہلے چار میچوں میں تینتالیس رنز کی اوسط سے تین سو چار رنز بنائے تھے۔

تاہم ان کے کھلینے کے انداز اور مزاج نے یہ سوال اٹھائے تھے کہ آیا وہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔

گزشتہ جمعہ کو مقامی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں لکھتے ہوئے انگلینڈ کے مایہ ناز اوپنر کھلاڑی جیفری بائیکاٹ کا کہنا تھا: ’پیٹرسن سپر سٹار بننا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ان کو بھی خوب داد ملے لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے ابھی تک کوئی شاندار پرفارمنس نہیں دی۔‘

میدان میں ہوں یا باہر، پیٹرسن بڑی دلچسپ شخصیت ہیں

لیکن پیر کو انتہائی دباؤ کے حالات میں جب پورے انگلینڈ میں شائقین ایشیز ٹرافی کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے تھے پیچیس سالہ پیٹرسن نے اپنی پہلی سنچری بنا کر ایک شاندار پرفارمنس بھی اپنے ریکارڈ میں لکھ دی۔

شین وارن نے جو سلپ میں سو میں سے ننانوے ایسے کیچ گرنے نہیں دیتے، پیٹرسن کاایک کیچ ڈراپ کیا جس کا خمیازہ آسٹریلیا کو بھگتنا پڑا۔ شین وران ہیمپشائر کاؤنٹی میں پیٹرسن کے کپتان بھی ہیں۔

پیٹرسن جنوبی افریقہ سے انگلینڈ آئے تھے کیونکہ اس وقت وہاں قومی سطح پر کرکٹ میں نسلی بنیاد پر مبنی کوٹہ سسٹم رائج تھا۔ یہ پیٹرسن کی اپنی زندگی اہم ترین فیصلہ تھا کہ وہ اس ملک جائیں گے جہاں ان کی والدہ کی پیدائش ہوئی تھی۔

انگلینڈ کی ایک روزہ ٹیم میں بلائے جانے سے پہلے وہ چار سال تک نوٹنگم شائر کے لیے کھیلتے رہے۔ لیکن اپنے وطن میں انہوں نے ایک سو اکاون رنز کی اوسط سے کھیلتے ہوئے چار سو چون رنز بنائے جن میں تین سنچریاں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک سنچری محدود اوور کے میچ میں انگلینڈ کے کسی بھی کھلاڑی کی طرف سے سکور کی جانے والی تیز ترین سنچری ہے۔

جب مودجود ایشیز شروع ہوئی تو کیون پیٹرسن نے دنیا کی بہترین ٹیم آسٹریلیا کو ’بُولیز‘ کہتے ہوئے یہ وعدہ کیا کہ ’ہم مقابلہ کریں گے اور ایسا نہیں ہوگا کہ ہم کسی گنتی ہی میں نہ آئیں۔‘

اوول میں انہوں نے ایسا کر کے بھی دکھا دیا جہاں بریٹ لی نے پچانوے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکتے ہوئے انہیں دو انتہائی خطرناک بانسر بھی کرائے جو کندھوں سے پیٹرسن کا سر اڑا سکتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد