انضمام کی سزا، جواب طلب سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوول کے میدان پر جو کچھ ہوا اس کا ڈراپ سین اوول ہی کے ایک کمرے میں ہوگیا۔اب ہر شخص مطمئن ہے۔ رنجن مدوگالے عادل منصف کا کردار ادا کرکے پرسکون ہیں۔ انضمام الحق بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری ہونے کے بعد سربسجود ہیں۔ ڈیرل ہیئر خود کو اب بھی اچھا امپائر کہنے پر مصر ہیں۔ شہریارخان مزید کارروائی نہ کرنے کا اعلان کرکے چین کی بنسری بجا رہے ہیں۔ لیکن یہ سوال ابھی بھی جواب طلب ہے کہ جب سار ے فساد کی جڑ یعنی بال ٹمپرنگ کا الزام ہی انضمام الحق پر ثابت نہیں ہوا تو پھر خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لئے آواز بلند کرنے پر انہیں کیوں سزا دی گئی؟ آئی سی سی کہتی ہے کہ اس کے ضابطۂ اخلاق کی پامالی کرنے پر انضمام الحق کارروائی کی زد میں آئے ہیں لیکن کیا پاکستانی کپتان اس سارے قضیے میں قربانی کا بکرا نہیں بنے ہیں؟
مطلب یہ کہ جب ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کے احتجاج کے بعد میچ کو ختم کرکے انگلینڈ کی جھولی میں ڈال دیا تو ظاہر ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ تماشائیوں کو ٹکٹوں کے پیسے واپس کرنے کا پابند ہوگیا تھا لیکن اس سے بڑا نقصان اسکائی اسپورٹس کا ہوا جسے کئی ملین پاؤنڈز اپنے اسپانسرز کو واپس کرنے تھے۔ اس نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ سے اس کا مطالبہ کیا جس نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس کا ازالہ کرنے کے لئے کہا لیکن انکار کی صورت میں اس نےگیند آئی سی سی کے کورٹ میں ڈال دی۔ ظاہر ہے کہ آئی سی سی نے اس صورتحال میں اپنے امپائر اور خود کو ذمہ دار قرار نہ دیتے ہوئے کسی کو قربانی کا بکرا بنانا ہی تھا۔ اس نے کھیل کی روح متاثر کرنے کے قوانین کے تحت ایف آئی آر پاکستانی کپتان کے نام کی درج کردی۔ رنجن مدوگالے کے اوول ٹیسٹ کے فیصلے میں ڈیرل ہیئر کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں سخت الفاظ استعمال نہیں کیے گئے لیکن اگلے ہی روز امپائرز کو دی گئی مدوگالے کی وارننگ ان کا اصل فیصلہ سمجھی جاسکتی ہے۔ وہ یہ بات اوول ٹیسٹ کی سماعت کے اختتام پر اپنے فیصلے میں بھی کہہ سکتے تھے کہ امپائرز کھیل کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیسٹ میچز کا انجام اوول جیسا نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ڈیرل ہیئر نے جس طرح بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کرنے میں دیر نہیں لگائی اور گیند تبدیل کردی اسی طرح انہوں نے میچ ختم کرنے میں بھی عجلت پسندی کا ثبوت دیا۔ اگر وہ چاہتے تو اوول ٹیسٹ کو جاری رکھا جاسکتا تھا۔ کیا اس پر کرکٹ کا نگراں ادارہ ہیئر کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر یہ رائے تو پختہ سے پختہ ہوتی جارہی ہے کہ آئی سی سی کرکٹ کی اقوام متحدہ ہے جو ہر کرکٹ بورڈ کو اس کی قوت کے لحاظ سے ڈیل کرتی ہے۔ اگر اس کے سامنے ڈالمیا جیسا شخص اور بھارت جیسا کرکٹ بورڈ آجائے تو مائیک ڈینس کا میچ ریفری کی حیثیت سے کریئر ختم ہوجاتا ہے۔ رہی بات پاکستان کرکٹ بورڈ کی تو وہ اسے یہ کہہ کر چپ کرادیتی ہے کہ امپائرز کی تقرری کے معاملے پر وہ کسی کی ڈکٹیشن نہیں لے گی۔ | اسی بارے میں ہیئر چیمپیئن ٹرافی سے باہر28 September, 2006 | کھیل یہ اخلاقی جیت ہے: سابق کرکٹرز28 September, 2006 | کھیل پاکستان کی فتح ہوئی: انضمام28 September, 2006 | کھیل کرکٹ ماہرین نے پانسہ پلٹ دیا 29 September, 2006 | کھیل انضمام بری: دنیا بھر میں شہ سرخیاں29 September, 2006 | کھیل پاکستان تنازع: امپائروں کو تنبیہ30 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب25 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||