BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 September, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام بری: دنیا بھر میں شہ سرخیاں

انضمام الحق
مدوگالے کا فیصلہ کرکٹ کے اس بنیادی اصول کی نفی کرتا ہے کہ امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے: پرنگل
آئی سی سی کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کئے جانے کی خبر کو پاکستان ہی نہیں برطانیہ اور آسٹریلیا کے اخبارات نے بھی شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔

انگلینڈ کے ڈیلی ایکسپریس نے سماعت کی خبر انضمام الحق کی تصویر کے ساتھ شائع کرنے کے علاوہ سابق کپتان عمران خان کے اس بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈیرل ہیئر کو انضمام الحق سے معافی مانگنی چاہیے۔

ٹیلی گراف نے لکھا ہے کہ رنجن مدوگالے کے فیصلے کے بعد ڈیرل ہیئر کا امپائرنگ کیریئر خطرے سے دوچار ہوگیا ہے اور آئی سی سی کو اب مشکل کا سامنا ہے کہ ڈیرل ہیئر کے ساتھ کیا کرے جن کا کنٹریکٹ مارچ2008 میں ختم ہوگا۔

گارڈین نے بھی یہی سرخی لگائی ہے کہ بال ٹمپرنگ میں انضمام الحق کے بری ہونے کے بعد ہیئر کا کریئر خطرے میں ہے۔ گارڈین نے اوول میں ہونے والی دو روزہ سماعت کی تفصیلی خبر ڈیرل ہیئر کی تصویر کے ساتھ شائع کرتے ہوئے انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر جیف بائیکاٹ اور سابق کاؤنٹی کھلاڑی سائمن ہیوز کی کوششوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جنہوں نے بال ٹمپرنگ کے الزام سے کلیئر کرانے میں پاکستان کی مدد کی ۔

دی انڈی پینڈنٹ نے اپنی سرخی میں انضمام الحق کے بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری ہونے کے بجائے چار ون ڈے میچوں کی پابندی کو اہمیت دی ہے۔

آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرلڈ نے لکھا ہے انضمام الحق کلیئر لیکن ہیئر چیمپئنز ٹرافی میں نہیں ہونگے۔

ایک اور آسٹریلوی اخبار ہیرلڈ سن نے پاکستان نے ہیئر کومسترد کردیا، انضی کلیئر کی سرخی لگائی ہے ساتھ ہی اس نے سماعت کے بعد کار میں بیٹھے خوش انضمام الحق کی تصویر بھی دی ہے جس کی سرخی ہے ’ہیپی مین‘۔

برطانوی اور آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کی انضمام الحق کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کے برعکس ٹیلی گراف میں کالم لکھنے والے ڈیرک پرنگل نے اس مرتبہ بھی پاکستانی ٹیم کے خلاف تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ انضمام الحق کو رنجن مدوگالے کی جانب سے مزید سخت سزا دی جاسکتی تھی لیکن سیاسی اور تجارتی مفادات جیت گئے۔

پرنگل نے یہ بھی لکھا ہے کہ مدوگالے کا فیصلہ کرکٹ کے اس بنیادی اصول کی نفی کرتا ہے کہ امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ سابق انگلش کرکٹر نے ذرائع کے حوالے سے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان کی چار ٹیسٹ سیریز میں امپائرنگ کرتے ہوئے ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کو آٹھ مواقع پر گیند کے ساتھ گڑبڑ کرنے پر متنبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد