’یونس خان مستقبل کے کپتان ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ یونس خان ایک باصلاحیت کپتان ہیں اور مستقبل میں وہ پاکستان کے کپتان ہوں گے لیکن ابھی انہیں چمپیئنز ٹرافی کے پورے ٹورنامنٹ کے لیئے کپتان بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی تقرری کے بعد قذافی سٹیڈیم میں واقع پی سی بی کے ہیڈ کوارٹر پہنچ کر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ٹیم کو دوبارہ متحد کرنے کے لیئے انہوں نے یونس خان کو کپتانی کرنے کے لیئے آمادہ کر لیا ہے اور اب یونس خان کپتان اور محمد یوسف نائب کپتان ہوں گے۔ نئے چیئرمین کے مطابق انضمام کے بعد یونس ٹیم کے کپتان کے طور پر سب سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ یونس کو انہوں نے دوبارہ کپتان بنایا ہے۔ ’یونس کو سلیکشن کمیٹی نے دو ہفتے پہلے کپتان اور محمد یوسف کو نائب کپتان بنایا تھا اور کچھ غلط فہمی کے سبب وہ صورتحال پیدا ہوئی لیکن اب سب معاملہ سلجھ گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح ٹیم کو دوبارہ متحد کرنا ہے کیونکہ اوول ٹیسٹ تنازعے کے بعد ٹیم کافی مشکلات اور انتشار کا شکار تھی اسے اس ذہنی کیفیت سے نکالنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ روانگی سے پہلے انہوں نے ٹیم سے ملاقات کی ہے اور اب ٹیم بھارت جیت کا مقصد لے کر جا رہی ہے اور ٹیم میں مکمل ہم آہنگی اور اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ کپتان کو مکمل اختیار دیا جاتا رہا ہے اور کوئی کپتان ڈمی کپتان نہیں ہوتا، یونس خان کے پاس وہ تمام اختیارات ہیں جو کسی کپتان کے پاس ہوتے ہیں۔ نسیم اشرف سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ کرکٹر ہیں تو انہوں نے کافی سختی سے جواب دیا کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات چلا نے کے لیئے کرکٹر کی نہیں ایک اچھے منتظم کی ضرورت ہوتی ہے۔ نسیم اشرف نے کرکٹ نہیں کھیلنی بلکہ بورڈ کو چلانا ہے اور اسے چلانے کے لیئے پیشہ ور مینیجمنٹ اور بہتر گورننس کی ضرورت ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ وہ فرسٹ کلاس اور انڈر 19 کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کو اوول تنازعے کے نتیجے میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے آٹھ لاکھ جرمانے کا مطالبہ ورثے میں ملا ہے لیکن اس معاملے میں ان کا مؤقف بھی سابق چیئرمین جیسا تھا کہ وہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو کوئی رقم ادا نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر نسیم نے کہا کہ یہ عہدہ ان کے لیئے ایک چیلنج ہے کیونکہ یہ کوئی آسان ذمہ داری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی مثبت سوچ رکھنے والے شخص ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بہت اچھی ہے اور وہ کھلاڑیوں کی مکمل مدد اور حمایت کرتے ہیں تاکہ وہ اچھی کرکٹ کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین تقریبًا تیار ہے اور صرف کچھ معمولی تبدیلیاں کرنی ہیں، جس کے بعد 45 دن میں یہ آئین صدر جنرل پرویز مشرف کو پیش کر دیا جائے گا۔ نسیم اشرف پیر کو بورڈ کے تمام شعبوں کے سربراہ سے ایک میٹنگ کر رہے ہیں جس کے دوران وہ تمام معاملات پر ان سے آگاہی حاصل کریں گے تاکہ بورڈ کو پیشہ ور انداز سے چلایا جائے۔ انہوں نے سابق چیئرمین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے کافی بہتر انداز میں بورڈ کے معاملات چلائے ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف پاکستان کے ہیومن ریسورس کے ادارے کے سربراہ ہیں اور ان کا درجہ وزیر مملکت کے برابر ہے۔ ان کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے اور ان کے والد پاکستان آرمی کے آفیسر رہ چکے ہیں۔ تقریبًا دو سال سے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے ممبر ہیں اور صدر جرنل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔ ڈاکٹرنسیم اشرف امریکہ میں بھی کافی عرصہ مقیم رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس05 October, 2006 | کھیل شہریار خان مُستعفی ہو گئے06 October, 2006 | کھیل ’پاکستانی ٹیم میں اختلافات نہیں‘06 October, 2006 | کھیل پاکستان کے نئے کپتان محمد یوسف05 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||