BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے نئے کپتان محمد یوسف

محمد یونس نے کپتانی چھوڑتے ہوئے کہا تھا: ’میں ڈمی کپتان نہیں بننا چاہتا‘
پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتانی پر شروع ہونے والی نزع کے بعد، یونس خان کی جگہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے ٹیم کی قیادت محمد یوسف کو سونپ دی گئی ہے۔

یونس خان نے جمعرات کی صبح یہ کہہ کر کپتانی چھوڑنے کا چونکا دینے والا اعلان کردیا تھا کہ وہ ڈمی کپتان بننا نہیں چاہتے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام کے ان سے مذاکرات شروع ہوگئے تھے جس میں انضمام الحق بھی شامل ہوگئے تھے۔

انضمام الحق یونس خان کو اکیڈمی سے مناکر قذافی سٹیڈیم لائے جہاں یونس خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے ملاقات کی۔ تاہم یونس خان کے موقف میں تبدیلی نہ آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد یوسف کو کپتان بنانے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل محمد یوسف کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے نائب کپتان مقرر کیا گیا تھا۔

تبدیل شدہ صورتحال میں عبدالرزاق کو نائب کپتان بنایا گیا ہے۔

32سالہ محمد یوسف نے70 ٹیسٹ اور223 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کے رنز کی تعداد7455 ہے جن میں11 سنچریاں اور50 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

وہ چار ون ڈے میچوں میں پاکستان کی قیادت کرچکے ہیں جن میں سے انہوں نے دو میچ جیتے جبکہ دو میں ٹیم کوشکست ہوئی۔ انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں بھی کپتانی کی ہے جن میں سے ایک جیتا جبکہ دو میں پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 ’میں نے کرکٹ بورڈ کو بتا دیا ہے کہ میں کپتانی سے انکار کررہا ہوں اور میں ڈمی کپتان نہیں بننا چاہتا ہوں چاہے ایک میچ کے لیئے ہو، دو یا چھ میچوں کے لیئے
یونس خان

اس کے بعد قذافی سٹیڈیم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے باب وولمر نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لئے انتہائی مایوس کن ہے۔ ان کے مطابق یونس خان نے انہیں کپتانی چھوڑنے کی وجہ ذاتی بتائی ہے۔

ٹیم کے غیر ملکی کوچ باب وولمر نے یونس خان کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

یونس خان نے جنہیں انضمام الحق کی جگہ چیمپئنز ٹرافی کے لیئے کپتان مقرر کیا گیا تھا کہا کہ ’میں نے کرکٹ بورڈ کو بتا دیا ہے کہ میں کپتانی سے انکار کررہا ہوں اور میں ڈمی کپتان نہیں بننا چاہتا ہوں چاہے ایک میچ کے لیئے ہو، دو یا چھ میچوں کے لیئے‘۔یونس خان یہ کہہ کر کرکٹ اکیڈمی چلے گئے۔

باب وولمر نے کہا کہ ان کا کام ٹیم کی تیاری ہے اور اس وقت ٹیم کے سامنے چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ ہے جو متاثر نہیں ہوں گے اور وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔ باب وولمر کا کہنا ہے کہ صورتحال کے بارے میں باضابطہ بیان کرکٹ بورڈ جاری کرے گا۔

یونس خان کے جانے کے کچھ دیر بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر سلیم الطاف اور ٹیم کے منیجر طلعت علی ان سے مذاکرات کے لیئے اکیڈمی میں گئے لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یونس خان کے کپتانی چھوڑنے کے اچانک فیصلے کے پیچھے دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ انضمام الحق کی جگہ متبادل کھلاڑی کے انتخاب کے معاملے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

 یہ بات یونس خان کو بری لگی ہو اور انہوں نے محسوس کیا ہو کہ ان کی کپتانی برائے نام ہے لہذا انہوں نے کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا
مبصرین

ذرائع کے مطابق سلیکٹرز نے چند نام یونس خان کے سامنے رکھ دیے تھے جس پر یونس خان نے ان پر واضح کردیا تھا کہ اگر کسی کھلاڑی کو آپ کو منتخب کرنا ہے تو آپ ہی کریں۔

دوسرا اہم سبب منیجر طلعت علی کا تازہ ترین بیان بھی ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کی صورت میں انضمام الحق کی ٹیم میں واپسی ہوجائے جو اس وقت چار میچوں کی پابندی کی زد میں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات یونس خان کو بری لگی ہو اور انہوں نے محسوس کیا ہو کہ ان کی کپتانی برائے نام ہے لہذا انہوں نے کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یونس خان ماضی میں انضمام الحق کی جگہ دو ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں قیادت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد