شہریار خان مُستعفی ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان اطلاعات کے مطابق اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے اور ان کی حکومت کے مشیر اور کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے رکن ڈاکٹر نسیم اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا سربراہ بنایا گیا ہے۔ شہریار خان کے مطابق انہیں کل یونس خان کے کپتانی چھوڑنے کے غیر متوقع اعلان سے بہت صدمہ پہنچا۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اوپر ایک دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ان کا معاہدہ دسمبر 2006 تک کا تھا اور انہوں نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ اس معاہدے کی تجدید نہیں کرائیں گے تاکہ ان کی جگہ آنے والے نئے سربراہ کو ورلڈ کپ سے پہلے مناسب وقت مل سکے۔
’لیکن اوول تنازعے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اب یونس خان کے فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد میں نے محسوس کیا کہ انہیں اپنا عہدہ ابھی چھوڑ دینا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ یونس خان کے فیصلہ سے انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ مسٹر شہر یار خان نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کو پی سی بی کا سربراہ بنانا کا فیصلہ اچھا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کو پی سی بی کا سربراہ بنانا کا مشورہ انہوں نے نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹرنسیم اشرف حکومت کے مشیر اور کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے رکن ہیں اور وہ صدر مشرف کے قریبی ساتھیوں میں سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے شہریارخان کے استعفے پر عارف علی خان عباسی اور لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیا کو حیرت نہیں ہوئی ہے۔ یہ دونوں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارف علی خان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوول ٹیسٹ اور یونس خان جیسے تنازعات شہریارخان کے استعفے کے بنیادی اسباب ہیں۔وہ معاملات کو درست انداز میں نمٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ عارف عباسی کا کہنا ہے کہ جب کھلاڑیوں کے ایک گروپ کی طرف سے یونس خان سے بدتمیزی گئی تو اسوقت کرکٹ بورڈ کے چیئرمین خاموش تماشائی بنے رہے۔ یونس خان کا کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ فطری امر ہے۔اوول ٹیسٹ تنازعہ کی ذمہ داری بھی براہ راست شہریارخان پر عائد ہوتی ہے۔ عارف عباسی کے مطابق پاکستان کرکٹ نوسال سے ایڈہاک ازم پر چل رہی ہے دنیا کے کسی کرکٹ بورڈ میں اس طرح کی مثال نہیں ملتی۔ایڈہاک کی وجہ سے خلا ہوجاتا ہے جس میں پلیئر پاورز کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا چیئرمین بنائے جانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عارف عباسی نے کہا کہ یہ محض چہرے کی تبدیلی ہے۔ نسیم اشرف کی کرکٹ میں جڑیں نہیں ہیں۔ کھیل کا شوقین ہونا اور اس سے براہ راست تعلق رکھنا دو مختلف باتیں ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیا کہتے ہیں کہ شہریارخان کا دور خاصا ہنگامہ خیز رہا حالانکہ انہیں بہت سی چیزیں تیار مل گئی تھیں اور ٹیم نے بھی ان کے دور میں اچھی کارکردگی دکھائی لیکن بہت سے معاملات کو وہ صحیح طور پر ہینڈل نہیں کرسکے شاید اس لئے بھی کہ زیادہ تر وقت وہ دوروں پر رہے۔ توقیرضیا نے ڈاکٹر نسیم اشرف کو مشورہ دیا کہ وہ کھلاڑیوں سے فاصلہ رکھیں اور ان کے معاملات منیجر کوچ اور دیگر اسٹاف سے طے کرائیں۔ ان کی توجہ کرکٹ کی بہتری پر ہونی چاہیے۔ | اسی بارے میں کپتانی:انضمام شہریارملاقات05 October, 2006 | کھیل ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس05 October, 2006 | کھیل یونس کےا نکار سے یوسف کی تقرری تک05 October, 2006 | کھیل پاکستان کے نئے کپتان محمد یوسف05 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||