BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 October, 2006, 19:03 GMT 00:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارت کاری سے کرکٹ کے میدان تک

شہر یار خان
شہر یار کے مستعفی ہونے کو یونس خان کے کپتان بننے سے انکار کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے
عمر کے اس حصے میں جب انسان ریٹائرمنٹ لے کر آرام پسندی کو ترجیح دیتا ہے شہریارخان نے سفارت کاری کے بعد کرکٹ کے چیلنجز سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن اب جب وہ اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے دو ماہ قبل اچانک مستعفی ہوگئے ہیں تو وہ یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری سے زیادہ مشکل پاکستان کی کرکٹ ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستانی کرکٹ کی روایتی سیاست نے بہتر سالہ تجربہ کار سفارت کار کو کلین بولڈ کردیا۔

شہریارخان دسمبر2003 میں لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیا کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے تھے۔انہوں نے کرکٹ بورڈ میں آتے ہی بتدریج توقیر ضیا کے قریبی ساتھیوں سے چھٹکارہ حاصل کیا اور اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو لے آئے جن پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا رہا کہ وہ جس صاف شفاف عمل کا دعوی کرتے ہیں اس پر عمل پیرا نہیں۔

شہریارخان کو متواتر سینیٹ کی اسپورٹس کمیٹی کے جارحانہ انداز کا سامنا کرنا پڑا۔شہریارخان کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین سامنے نہ آسکا حالانکہ یہ دعوی کیا جاتا رہا کہ اسے منظوری کے لئے صدر پاکستان کو بھیجا جاچکا ہے لیکن ایوان صدر سے اسے منظوری نہ مل سکی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں آنے کے بعد شہریارخان اور سابق چیف ایگزیکٹو رمیز راجہ میں سرد جنگ جاری رہی جو رمیز راجہ کے استعفے پر منتج ہوئی حالانکہ انہوں نے اس کی وجہ کمنٹری کی مصروفیات کو قراردیا تھا۔

اب شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر سلیم الطاف کی شکل میں ایک اور محاذ پر مصروف تھے ان دونوں کے ایک ہی معاملے پر متضاد بیانات متعدد مرتبہ پاکستانی کرکٹ کی جگ ہنسائی کا سبب بنے۔

اوول ٹیسٹ تنازعہ اور یونس خان کا کپتانی سے انکار شہریارخان کے استعفے کی بنیادی وجہ کہے جاسکتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے استعفے کے لئے غلط وقت کا انتخاب کیا ہے کیونکہ یہ استعفی پاکستانی ٹیم کی بھارت روانگی سے ایک دن قبل سامنے آیا ہے جس کے اثرات یقینا ٹیم پر مرتب ہونگے۔

یونس خان کے کپتانی چھوڑنے کے فیصلے کو شہریارخان نے کل غلط وقت پر غلط فیصلہ قرار دیا تھا لیکن آج انہوں نے خود بھی وہی کچھ کیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ حوصلہ ہار بیٹھے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد