انتظامیہ انضمام سے خوش نہیں: ظہیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے برخاست کیے جانے والے مینیجر ظہیر عباس نے دعوٰی کیا ہے کہ اوول ٹیسٹ کے تنازعہ کے بعد کپتان انضمام الحق پاکستان کرکٹ کی انتظامیہ کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ صرف چھ ماہ تک ٹیم کے مینیجر کے رہنے کے بعد ظہیر کو تیرہ ستمبر کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ابتدا میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ ظہیر کو ’آرام کرنے کے لئے‘ ہٹایا گیا ہے لیکن بورڈ نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ انہیں واپس کب لایا جائے گا۔ بی بی سی کے ریڈیو فائیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ظہیر عباس نے یہ بھی کہا کہ اوول ٹیسٹ کے چوتھے دن نہ کھیلنے کا فیصلہ بھی انضمام کا اپنا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’اس وقت پاکستان کی انتظامیہ انضمام سے خوش نہیں ہے۔‘ ظہیر کا کہنا تھا
یاد رہے کہ شہریار خان نےگزشتہ ہفتے کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا جس کے اگلے روز چیمپییئنز ٹرافی کے لیئے یونس خان کو ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا تھا۔ لیکن پھر جمعرات کو یونس خان نے کہہ دیا تھا کہ وہ ’ڈمی‘ کپتان نہیں بنیں گے اور دو دنوں کے لئے محمد یوسف ٹیم کے کپتان بنا دیے گئے تھے۔ ظہیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دورۂ انگلینڈ سے یونس کے شہریار خان کے ساتھ تعلقات کچھ اچھے نہیں رہے ہیں۔ ’ایک مرتبہ جب شہریار خان اپنے کمرے تھے اور یونس خان ان سے ملنا چاہتے تھے تو یونس کو پندرہ منٹ تک انتظار کرنا پڑا۔‘ ظہیر کے مطابق کچھ اور باتیں بھی سامنے آنے لگ گئی تھیں اور اچانک ہی یونس نے کہہ دیا کہ وہ ٹیم کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کپتان نہیں بنیں گے۔ اور یہی وجہ تھی یونس کے استعفٰی دینے کی۔’ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے مقابلے ہمارے سامنے تھے اور یونس اس وقت اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس کا ان کو سامنا تھا۔ یونس کا خیال تھا کہ چیئرمین انہیں وقت نہیں دے رہے تھے، اس لئے یونس نے استعفٰی دینے کا فیصلہ کر لیا۔‘ بیس اگست کو اوول میں انضمام کے دوبارہ میدان میں نہ جانے کے معاملے میں ظہیر نے کہا ’ احتجاج کرنے کے بعد ہمیں دوبارہ میدان میں چلے جانا چاہیے تھا لیکن انضمام نے مجھے کہا کہ میں دوبارہ میدان میں نہیں جانا چاہتا، اگر لڑکے جانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں۔‘ ظہیر نے مزید کہا ’ہم جانتے تھے کہ انضمام نے اس وقت ہماری بات نہیں سنی۔ وہاں بے شمار لوگ انتظار کر رہے تھے کہ ہم کھیلنے جائیں اور وہ ہمای اہلیت اور کھیل دیکھیں۔‘ جب ظہیر عباس سے پوچھا گیا کہ آیا اس بات کا امکان ہے کہ جب انضمام پر پابندی ختم ہو جائے تو انہیں کہہ دیا جائے کہ وہ کپتانی سے مستعفی ہو جائیں، تو ظہیر نے کہا ’ایسا لگتا تو ہے، لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||