’لوگ میری کپتانی پسند کرتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق کی عدم موجودگی میں چمپیئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کے کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ ’ہم انضمام کی کمی ایک کپتان کے طور پر محسوس کریں گے، کیونکہ جس پلاننگ سے وہ ٹیم کو دو سال سے لے کر چل رہے تھے ہم اس کے عادی ہیں‘۔ ’دوسری بات ظاہر ہے یہ ہے کہ انضمام نے ایک بیٹسمین کی حیثیت سے خاص طور انڈیا کے خلاف بڑا نام کمایا ہے اور ان کے سامنے کسی بیٹسمین کی بات سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے تو ظاہر ہے کہ ہم انہیں ایک بیٹسمین کے طور پر مس کریں گے‘۔ اس سوال کے جواب میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات کتنے ہیں یونس خان نے کہا ’میں آخری بال تک لڑنے پر یقین رکھتا ہوں، یوں بھی ایک روزہ میچوں میں کوئی ٹیم فیورٹ نہیں ہوتی، ہر ٹیم کے امکانات ففٹی ففٹی ہوتے ہیں اور پاکستان کے چانسز بھی اتنے ہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم فائنل تک جائیں گے‘۔ ان سے جب پوچھا گیا انڈیا میں آ کر کھیلنا کیسا لگتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے انڈیا میں کھیلنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے کیونکہ یہاں ہمارے، پاکستانی ٹیم کے کھیل کو پسند کیا جاتا ہے اور ہماری سپورٹ ہے اور جب آپ کے کھیل کو اپریشیٹ کیا جا رہا ہوتا ہے تو آپ کا بھی دل کرتا ہے کہ آپ کچھ کر کے دکھائیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی بہت شاندار یادیں۔ کیونکہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے یہاں ٹیسٹ سیریز ڈرا کی تھی اور ون ڈے چار دو سے جیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب بھی مزا آئے گا کہ فائنل انڈیا اور پاکستان کھیلیں‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ ان کے کپتان بننے کے دوران تک جو کچھ ہوا کیا وہ اسے بھول چکے ہیں؟ یونس خان نے کہا کہ ’میرا خیال یہ ہے کہ یہ میں دسویں بار کہہ رہا ہوں کہ میں نے بھلا دیا ہے (ہنستے ہوئے) اور میرا خیال ہے کہ میں بھول چکا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کیسے ہوا اور کیسے پھر سکون ہو گیا یونس خان نے کہا کہ ’ وہ ہوا اور ختم ہو گیا کہ میں واپس کپتان بن گیا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو میں یہاں نہیں ہوتا۔ اب اگر لوگ اس پر لکھ رہے تو لکھیں میری طرف سے کوئی بیان نہیں آئے گا‘۔ انہوں نے کہا ’میں ہمیشہ کرکٹ کھیلتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔ یہ ٹیم کے لیے بھی اچھا موقع ہے کہ نام کمائے اور میرے لیے بھی ایک کپتان کی حیثیت سے نام کماؤں۔ میں نے ایک دو سال کپتانی کی ہے اور لوگ پسند کرتے ہیں کہ میں کپتانی کروں‘۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے ان کی ساری توجہ چمپیئنز ٹرافی پر ہے۔ اس کے بعد آگے بھی کرکٹ ہے اور ورلڈ کپ ہے۔ اس سوال کے جواب میں کچھ کھلاڑیوں کو ان سے شکایت تھی کیا اب وہ دور ہو گئی ہے؟ یونس نے کا ’نہ تو مجھے کسی سے کوئی شکایت ہے اور نہ ہی کسی کو مجھ سے ہے۔ ٹیم پوری طرح سے ایک ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’کرکٹ میں ایڈہاک ازم ختم ہوناچاہیے‘08 October, 2006 | کھیل شہریار خان استعفٰی: فیصلہ کس کا تھا؟07 October, 2006 | کھیل ’پاکستانی ٹیم میں اختلافات نہیں‘06 October, 2006 | کھیل شہریار خان مُستعفی ہو گئے06 October, 2006 | کھیل ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس05 October, 2006 | کھیل کپتانی:انضمام شہریارملاقات05 October, 2006 | کھیل یونس کےا نکار سے یوسف کی تقرری تک05 October, 2006 | کھیل انضمام کا متبادل فیصل اقبال03 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||