تاریک راہوں کے مسافر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نام سے بے نامی ، بلندی سے پستی اور عزت افزائی سے بے توقیری کی داستانیں رقم کرنے والے بعض مشہور کھلاڑیوں کی فہرست میں ڈیاگو میراڈونا۔ بین جانسن ۔ لنفرڈ کرسٹی اور شین وارن کیا کم تھے کہ ’بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا‘ کے مصداق دنیائے کرکٹ کے تیز ترین اور خود کو میک گرا سمجھنے والے دو پاکستانی کرکٹرز بھی اسی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ شعیب اختر اور محمد آصف بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ بھارت گئے تھے لیکن میدان میں کچھ کردکھانے سے پہلے ہی ان کی وطن واپسی تاریک راہوں کے مسافر کی طرح ہوئی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت روانگی سے لے کر ان دو فاسٹ بولرز کی وطن واپسی تک پاکستانی کرکٹ کسی آسیب زدہ حویلی کی طرح ایک کے بعد ایک چونکادینے والے واقعے کا سامنا کرتی رہی ہے۔ یونس خان، انضمام الحق، شہریارخان اور نسیم اشرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستانی کرکٹ کے منظرنامے کو نت نیا انداز دیتے رہے ہیں۔ اس متنازعہ باب کو شعیب اختر اور محمد آصف نے مزید ہنگامہ خیز بنادیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے روشن خیال اوربولڈ چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہئے کہ ڈوپنگ میں پہل کرکے اس نے دنیا کے سامنے حقیقیت کو چھپایا نہیں لیکن اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو مکمل طور پر اسی وقت کریڈٹ دیا جائے گا جب ادھور ے سچ کے بجائے پورا سچ سامنے آئے گا۔ کیا ممنوعہ ادویات کا استعمال شعیب اختر اورمحمد آصف کا انفرادی فعل تھا؟ وہ ایک ایسی ٹیم کے ساتھ وابستہ ہیں جو اسوقت کوچنگ اور ٹریننگ کے جنوبی افریقی سیٹ اپ پر مشتمل ہے جس نے کرکٹرز کی ٹریننگ ڈائٹ اور کوچنگ کا بقول اس کے سائنسی خطوط پر پروگرام مرتب کررکھا ہے ایسے میں شعیب اختر اور محمد آصف نے اگر کوچ باب وولمر ٹرینر مرے اسٹیونسن اور فزیو ڈیرن لفسن کے علم میں لائے بغیر کسی قوت بخش ادویات کا استعمال کیا تو یقیناً اس پر ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئے اور اگر یہ بات ٹرینر اور فزیو کے علم میں تھی تو پھر ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جانا ضروری ہے۔ ماضی میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شعیب اختر پاکستانی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ کرنے کے بجائے اپنے پسندیدہ ڈاکٹر توصیف رزاق کے ساتھ ٹریننگ کو ترجیح دیتے رہے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ خاموش تماشائی بنتا رہا ہے۔ اس نکتے کو بھی اس ڈوپنگ معاملے کے تناظر میں بغور دیکھنا ہوگا۔ محمد آصف کو پاکستانی ٹیم میں شامل ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے اس مرحلے ان کا ممنوعہ دواؤں کے استعمال میں ملوث ہونا ان کی پچھلی تمام کامیابیوں کو مشکوک بنانے کے لئے کافی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کریڈٹ دینے والے ڈاکٹر نسیم اشرف کو کم ازکم اس سوال کا جواب ضرور دے کر ابہام دور کرنا چاہئے کہ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے اختتام سے لے کر چیمپئنز ٹرافی کے لئے ٹیم کے اعلان میں کافی وقت رہا ہے پھر عین اسوقت جب پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف میچ کی تیاری میں مصروف تھی ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ منظرعام پر لاکر کیا مقاصد حاصل کئے گئے؟ اگر یہی رپورٹ ٹیم کی بھارت روانگی سے قبل آجاتی تو اسی وقت متبادل کھلاڑی ٹیم میں شامل کرلئے جاتے اور بھارت جاکر ٹیم کا مورال جس طرح متاثر ہوا وہ نہ ہوتا۔ آئی سی سی نے گیند پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ڈال دی ہے کہ وہ دونوں کھلاڑیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے لیکن اس واقعے نے اس تاثر کو شدت کے ساتھ ضرور اجاگر کیا ہے کہ بال ٹمپرنگ کی گندگی ابھی صاف ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ اس داغ نے پاکستانی کرکٹ کا سر شرمندگی سے جھکادیا ہے۔ | اسی بارے میں میں نے کچھ غلط نہیں کیا: شعیب16 October, 2006 | کھیل پاکستانی کرکٹ پھرمشکلات سے دوچار16 October, 2006 | کھیل شعیب اختر، آصف لاہور پہنچ گئے16 October, 2006 | کھیل شعیب اختر: تنازعوں تا ڈوپنگ 16 October, 2006 | کھیل شدیدمایوسی ہوئی: وولمر،یونس16 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||