BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 October, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اور آصف بے قصور: ڈاکٹر

ہو۔نینڈرولون عام طور پر بعض دیسی دواؤں میں موجود ہوتی ہے اس کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سابق سربراہ اور فاسٹ بولر شعیب اختر کے ذاتی معالج ڈاکٹر توصیف رزاق کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف بے قصور ہیں۔ اگر انہوں نے جان بوجھ کر ممنوعہ ادویات استعمال کی ہوتیں تو وہ ڈوپ ٹیسٹ ہی نہ دیتے۔

ڈاکٹر توصیف رزاق کے مطابق شعیب اختر اور محمد آصف انگلینڈ سے واپس آئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی دوا استعمال کی ہو جس میں نینڈرولون موجود ہو۔نینڈرولون عام طور پر بعض دیسی دواؤں میں موجود ہوتی ہے جس کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوچ، ٹرینر اور فزیوز بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا خود کرکٹر۔ لیکن ان لوگوں کو ہروقت یہ نہیں پتہ چلتا کہ کھلاڑی نے کیا دوا استعمال کی ہے۔ محمد آصف اور شعیب اختر نے لاعلمی میں ایسی دوا استعمال کرلی ہے جس میں ممنوعہ جزو موجود ہو اور وہ پھنس گئے۔

 شعیب اختر کے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ڈوپ ٹیسٹ ہوچکے ہیں لیکن ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔
ڈاکٹر توصیف

ڈاکٹر توصیف رزاق کا یہ بھی کہنا ہے کہ شعیب اختر کے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ڈوپ ٹیسٹ ہوچکے ہیں لیکن ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

اسپورٹس میڈیسن ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر پرویز رضوی کے خیالات اس سے مختلف ہیں ان کا کہنا ہے کہ نینڈرولون کارکردگی بڑھانے والی دوا ہے جس کا استعمال ممنوع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوا کا اثر چھ ماہ سے لے کر ایک سال تک رہتا ہے اور اس کی پکڑ ہوجاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد