کرکٹرز میں چرس عام ہے: رضوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپورٹس میڈیسن سے وابستہ ڈاکٹر میثاق رضوی کا کہنا ہے کرکٹرز میں چرس کا استعمال عام ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز میں نشہ آور ادویات کا استعمال بہت زیادہ ہےجن میں شراب اور چرس نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر میثاق رضوی کا کہنا ہے کہ چرس پر کرکٹ میں پابندی نہیں ہے اور وہ کارکردگی بڑھانے میں مددگار بھی نہیں ہے البتہ اس کے استعمال سے تھکن کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نینڈرولون سنتھیٹک ہارمون ہے۔یہ اینابالک سٹرائیڈ ہے جو مصنوعی طریقے سے جسم میں داخل کی جاتی ہےاور یہ ڈوپ ٹیسٹ میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ ’ کھلاڑیوں کا یہ دعوی سمجھ سے باہر ہے کہ کسی نے لاعلمی میں انہیں دوا دے دی ہوگی جس میں نینڈرولون کے اجزا ہوں اور انہیں پتہ ہی نہ چلا ہو۔ کیونکہ جب تک اس کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے ہونگے یہ ڈوپ ٹیسٹ میں کیسے ظاہر ہوگئے؟‘ ڈاکٹر میثاق رضوی کے مطابق شعیب اختر کافی عرصےسے فٹنس کے مسائل کا شکار ہیں اور انہیں یقیناً پتہ ہے کہ وہ کن کن دواؤں پر پابندی ہے لہذا اگر وہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کرتے پکڑے گئے ہیں تو وہی قصوروار ہیں البتہ ہوسکتا ہے کہ محمد آصف کو ممنوعہ ادویات کے بارے میں نہ بتایا گیا ہو لیکن یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ ڈاکٹر میثاق کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کافی دنوں سے ڈوپنگ کے بارے میں لیکچر کا انعقاد نہیں کرسکا ہے یہ اس کی غلطی ہے۔ ڈاکٹر میثاق اس بات کو بھی ڈوپنگ کے عالمی مروجہ قوانین کے خلاف سمجھتے ہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے نام میڈیا میں ظاہر کردیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں اور الزام ثابت نہیں ہوجاتے نام ظاہر نہیں کیے جاتے۔ ڈوپ ٹیسٹ کے سیمپل بھی نام کے بجائے کوڈ نمبر کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں اور مکمل رازداری برتی جاتی ہے۔ کھلاڑیوں کے بی سیمپل کے بارے میں ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ بی سیمپل میں وہ اجزا چیک کیے جاتے ہیں جو اے سیمپل میں ظاہر ہوئے ہوں۔ | اسی بارے میں شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ ہونا باقی ہے‘17 October, 2006 | کھیل ڈوپِنگ کی تحقیقاتی کمیٹی قائم18 October, 2006 | کھیل ٹریبونل کی سماعت تاخیر سے18 October, 2006 | کھیل ڈوپنگ کمیٹی کی تشکیل مکمل 20 October, 2006 | کھیل ڈوپنگ کمیٹی کی کارروائی شروع 21 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||