ڈوپِنگ کی تحقیقاتی کمیٹی قائم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد معاملہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ یہ تحقیقاتی کمیٹی پنجاب کے سابق گورنر بیرسٹر شاہد حامد سابق ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم اور ایک ڈاکٹر پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر کے نام کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پاکستانی فاسٹ بولرز کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ممتاز قانوں داں شاہد حامد اور سابق ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم کا تقرر کیا ہے۔ جہاں تک ایک ڈاکٹر کی تقرری کا تعلق ہے اس سلسلے میں دو نام زیرغور ہیں جن میں سے ایک کا اعلان جمعرات تک کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہےکہ یہ تحقیقاتی کمیٹی دو ہفتے میں حالات اور واقعات کا جائزہ لینے اور مختلف افراد سے بات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سپرد کردے گا جس کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گا کہ شعیب اختر اور محمد آصف نے لاعلمی یا دانستہ ممنوعہ دوا نینڈرولون کا استعمال کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یہ واضح کردیا کہ یہ تحقیقاتی عمل پاکستان کرکٹ بورڈ کا اندرونی معاملہ ہے اور آئی سی سی اس بارے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ دونوں فاسٹ بولرز کو اپنی صفائی کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ڈوپ ٹیسٹ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوران سامنے آتے تو دونوں پر دو سال کی پابندی عائد ہوسکتی تھی۔ پی سی بی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس واقعے سے پاکستانی کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ دنیائے کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ | اسی بارے میں شدیدمایوسی ہوئی: وولمر،یونس16 October, 2006 | کھیل ’سیلابِ گیند بلا‘ کب جائے گا؟18 October, 2006 | کھیل ’ٹیسٹ دوسری لیب سے کرائیں‘17 October, 2006 | کھیل باقاعدہ تفتیش ہونی چاہیئے: عمران17 October, 2006 | کھیل تاریک راہوں کے مسافر17 October, 2006 | کھیل شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ ہونا باقی ہے‘17 October, 2006 | کھیل ٹریبونل کی سماعت تاخیر سے18 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||