 | | | شعیب اور آصف پاکستان واپس آگئے ہیں |
پاکستان کرکٹ بورڈ شعیب اختر اور محمد آصف کی سماعت کے لیے ایک سہ رکنی ٹریبونل جمعہ کے روز قائم کرے گا لیکن یہ سماعت آئندہ ہفتے ہی شاید شروع ہوسکے۔ شعیب اختر اور محمد آصف ڈوپ ٹیسٹ پوزیٹِو پائے جانے پر کرکٹ بورڈ کے فیصلے کے منتظر ہیں اور ان پر دو سال تک کی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ کے لیے لیے جانے والے نمونے کے نتائج کو چیلنج کرتے ہیں تو پھر سماعت اور تفتیش میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر آف آپریشنز سلیم الطاف نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں معلوم ہے کہ دونوں نمونے ٹیسٹ میں پوزیٹِو پائے گئے ہیں جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ہوا کیا۔‘ سلیم الطاف نے مزید کہا: ’یہ ٹریبونل کی ذمہ داری ہوگی کہ پتہ لگائے اور فیصلہ سنائے۔ یہ غیرجانبدارانہ ٹریبونل ہوگا اور پی سی بی اس کی سفارش پر عمل کرے گا۔‘  |  اگر آئی سی سی کے ٹورنامنٹ کے دوران ڈوپ ٹیسٹ پوزیٹِو ثابت ہوتا تو سب کے لیے یہ مشکل گھڑی ہوتی۔  انضمام الحق |
ڈوپ ٹیسٹ کے نتائج ملنے پر پی سی بی نے شعیب اختر اور محمد آصف کو چیمپیئنز ٹرافی سے واپس پاکستان بھیج دیا ہے۔شعیب اختر نے کہا ہے کہ’میں نے جان بوجھ کر کارکردگی بڑھانے والی ادویات استعمال نہیں کیں، میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور مخالف ٹیموں کو ایسا دھوکہ نہیں دے سکتا‘۔ شعیب اختر اور محمد آصف پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے کسی ممنوعہ دوائی کا استعمال کیا ہو۔ کپتان انضمام الحق نے، جو کہ چار میچوں کی پابندی وجہ سے چیمپیئنز ٹرافی میں شریک نہیں ہیں، کہا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کو واپس بلالینا صحیح فیصلہ تھا۔ انضمام نے کہا: ’پی سی بی نے انہیں واپس بلاکر صحیح فیصلہ کیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ممنوعہ ادویات نہیں لیں۔‘ انضمام کا کہنا تھا کہ اگر آئی سی سی کے ٹورنامنٹ کے دوران ڈوپ ٹیسٹ پوزیٹِو ثابت ہوتا تو سب کے لیے یہ مشکل گھڑی ہوتی۔
|