انضمام :’ ڈرا سے اعتماد ملا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق ملتان ٹیسٹ ڈرا ہونے پر مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل صورتحال سے بچ نکلتے ہوئے میچ کو برابری پر ختم کرنے سے انہیں اعتماد ملا ہے اور یہ اعتماد کراچی ٹیسٹ میں ان کے بہت کام آئے گا۔ انضمام الحق کے مطابق ٹیم کے مورال کے لیے اس میچ کا ڈرا ہونا بہت ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ اس وکٹ پر بولرز کو بڑی تگ ودو کرنی پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے دن ان کا خیال تھا کہ چوتھے اور پانچویں دن وکٹ سپن لے گی اور گیند اوپر نیچے رہے گی لیکن اس پر ویسٹ انڈیز کو کسی قسم کا فائدہ حاصل نہ ہوا۔ ان کےخیال میں وکٹ ایسی ہونی چاہیئے جس پر میچ فیصلہ کن ہو۔ پاکستانی کپتان نے تسلیم کیا کہ میچ کے پہلے سیشن میں تین وکٹیں گرجانے سے وہ فکر مند تھے۔ وہ ٹیم کے لیے مشکل وقت تھا لیکن انہیں امید تھی کہ محمد یوسف اپنی شاندار کارکردگی سے میچ بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ محمد یوسف اور عبدالرزاق نے انتہائی شاندار بیٹنگ کی۔ انضمام الحق کے خیال میں لارا اور یوسف کی اننگز کا موازنہ ممکن نہیں ہے۔ دونوں نے ورلڈ کلاس اننگز کھیلیں۔ محمد یوسف کی اننگز مشکل حالات میں کھیلی گئی ایک اہم اننگز ہے۔
پاکستانی کپتان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہونے کے باوجود آپ کے لیے مشکلات پیدا کردیں تو انہوں نے کہا کہ وہ رینکنگ پر یقین نہیں کرتے۔ ویسٹ انڈیز کی موجودہ کارکردگی کو کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا وہ اسوقت بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ انضمام الحق نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فیلڈنگ میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا کا کہنا ہے کہ یہ بہت سخت میچ تھا۔ چار دن تک ان کی گرفت مضبوط رہی اور وہ اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں خاص کر لاہور ٹیسٹ کی شکست کے بعد انہوں نے ملتان میں اچھی پرفارمنس دی اور وہ کراچی ٹیسٹ کے بارے میں پرامید ہیں۔
ملتان کی وکٹ کے بارے میں لارا نے کہا کہ پہلے دن سے آخر تک یہ بیٹنگ کے لیے سازگار رہی جس پر پہلے سیشن یا پھر نئی گیند کے ساتھ بولرز کو مدد ملی لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس طرح کی وکٹوں کے حق میں نہیں ہیں جہاں کھلاڑیوں خاص کر بولرز کی مہارت سامنے نہ آسکے۔ برائن لارا کے لیے اس سیریز میں تشویش کا ایک پہلو فیلڈنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کو مستقبل قریب میں بہت کرکٹ کھیلنی ہے جن میں ورلڈ کپ جیسا اہم ایونٹ بھی شامل ہے اور انہیں فیلڈنگ کے معیار کو بہتر کرنا ہوگا کیونکہ کیچ میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز نےاپنے آخری چوبیس ٹیسٹ میچوں میں صرف دو جیتے ہیں جبکہ سولہ میں اسے شکست ہوئی ہے اور چھ ڈرا ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: سکور کارڈ19 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈین کرکٹ کو ’زوال‘20 November, 2006 | کھیل گیل اور گنگا کے سامنے بولرز بے بس20 November, 2006 | کھیل لارا کی سنچری، ویسٹ انڈیز آگے21 November, 2006 | کھیل ایشیز: رِکی پونٹنگ کی سینچری23 November, 2006 | کھیل ملتان: پاکستان نے ٹیسٹ بچالیا23 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||