لارا کی سنچری، ویسٹ انڈیز آگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برائن لارا کی انتہائی عمدہ اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز نے پاکستان پر 152 رنز کی سبقت حاصل کر لی ہے۔ تیسرے دن کھیل کے اختتام پر لارا اکیس چوکوں اور سات چھکوں کی مدد سے196 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ انضمام الحق کے لیے357 رنز پر آؤٹ ہونا ہی کیا کم پریشان کن تھا کہ برائن لارا نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔ پاکستانی ٹیم کے لیے خوشی کے لمحات جتنی تیزی سے آئے اتنی ہی تیزی سے گزرگئے۔ دانش کنیریا نے دن کے اپنے دوسرے ہی اوور میں خطرناک کرس گیل سے جان چھڑائی جو93 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ ان کی اننگز میں گیارہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ کرس گیل اور ڈیرن گنگا کی شراکت 162 رنزپر ٹوٹی جس کے بعد برائن لارا نے کریز پر آکر نقشہ ہی بدل دیا۔ اس دوران ڈیرن گنگا82 رنز بناکر کنیریا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے انہوں نے لارا کے ساتھ اٹھاون رنز کی شراکت قائم کی۔ روناکو مورٹن بھی برائن لارا کے سامنے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کے بعد61 رنز کی شراکت میں صرف پانچ رنز بناکر عمر گل کی نئی گیند کے ساتھ شروع کی گئی بولنگ پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
لارا نے اپنی نصف سنچری 48 گیندوں پر مکمل کی لیکن اگلی نصف سنچری انہوں نے صرف29 گیندوں پر مکمل کرڈالی۔ کھانے سے وقفے سے قبل مکمل ہونے والی ان کی سنچری میں بارہ چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔ لارا کی گیندوں پر سنچری ٹیسٹ کرکٹ کی نویں تیز ترین سنچری ہے۔ وہ سچن تندولکر کی پینتیسویں سنچریوں کے بعد سب سے زیادہ سنچریوں کی فہرست میں سنیل گاوسکر کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔ لارا کی شاندار بیٹنگ میں چندر پال بھی پس منظر میں چلے گئے جن کا یہ سوواں ٹیسٹ ہے۔وہ صرف چودہ رنز بناکر شاہد نذیر کی گیند پر عبدالرزاق کےہاتھوں کیچ ہوگئے۔ برائن لارا کے سرچڑھتے طوفان کو دیکھ کر براوو بھی’ شیر‘ ہو گئے ۔ ان کے کئی سٹروکس دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ آخری سیشن میں انضمام الحق کنیریا کو بولنگ کے لیے لائے لیکن ان کے پہلے ہی اوور میں کامران اکمل نے183 رنز پر لارا کا کیچ ڈراپ کیا اور پھر براوو کا79 رنز پر اسٹمپڈ مس کردیا۔
دانش کنیریا براوو کو یونس خان کی مدد سے پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بارہ چوکوں کی مدد سے89 رنز بنائے۔ لارا اور براوو نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں200 رنز کا اضافہ کیا جو پاکستان کے خلاف ویسٹ انڈیز کی ریکارڈ شراکت ہے اس سے قبل58-1957 کے برج ٹاؤن ٹیسٹ میں کولی اسمتھ اور ایورٹن ویکس نے پانچویں وکٹ کے لئے185 رنز بنائے تھے۔ پاکستانی بولرز میں کنیریا159 رنز کے عوض تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب رہے۔ پاکستانی ٹیم نے پہلی اننگز میں 357 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 263 بنائے تھے۔کھیل کے دوسرے روز دوسرے پاکستان کی پاکستان نے کپتان انضمام الحق، شیعب ملک ، عبدالرزاق، کامران اکمل سمیت چھ وکٹیں صرف چھیانوے رنز کے اضافہ پر کھو دیں۔ پاکستانی ٹیم: انضمام الحق، محمد یوسف، عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، شعیب ملک، عبدالرزاق، کامران اکمل، شاہد نذیر، عمر گُل اور دانش کنیریا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم برائن لارا، ڈیرن گنگا، کرس گیل، رناکو مارٹن، شِو نرائن چندرپال، ڈوائن براوو، دنیش رام دین، ڈیو محمد، کوری کالیمور، ڈیرن پاول اور جیروم ٹیلر۔ | اسی بارے میں ملتان ٹیسٹ: 263 پر چار آؤٹ19 November, 2006 | کھیل ڈوپنگ اپیلیں، سماعت ملتوی16 November, 2006 | کھیل طلباء کا نیا کرکٹ ریکارڈ 16 November, 2006 | کھیل چھ دن کا ٹیسٹ کریں: انضمام15 November, 2006 | کھیل بورڈ اثرانداز نہیں ہوسکتا: فخرالدین15 November, 2006 | کھیل پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی14 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||