گیل اور گنگا کے سامنے بولرز بے بس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرس گیل اور ڈیرن گنگا کی شاندار بیٹنگ نے پاکستانی بولنگ کو بے بسی کی تصویربنادیا۔ ملتان ٹیسٹ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں151 رنز بنائے تھے اور اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا تھا۔کرس گیل87 اور ڈیرن گنگا59 رنز پر کریز پر تھے۔ اس سے قبل بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم نے بڑے اسکور تک پہنچنے کا موقع ضائع کردیا اور وہ357 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ ویسٹ انڈیز کو جس پراعتماد آغاز کی ضرورت تھی وہ کرس گیل اور ڈیرن گنگا نے فراہم کردیا ۔انہوں نے پاکستان کی سر زمین پر ویسٹ انڈیز کی پہلی سنچری اوپننگ شراکت قائم کی۔ اس سے قبل75-1974ء کے کراچی ٹیسٹ میں لیونارڈ بیچن اور رائے فریڈرکس نے پہلی وکٹ کے لیے95 رنز بنائے تھے۔ کرس گیل اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز پر مکمل طور پر حاوی رہے۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری سات چوکوں کی مدد سے مکمل کی اور کھیل کے اختتام پر ان کی اننگز میں دس چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ کرس گیل اگر سنچری بناتے ہیں تو یہ23 اننگز کے بعد ان کی پہلی سنچری ہوگی انہوں نے آخری سنچری اپریل2005 میں جنوبی افریقہ کے خلاف انٹیگا میں بنائی تھی اس اننگز میں انہوں نے317 رنز اسکور کئے تھے۔ پہلے دن پاکستان کا سکور چار وکٹوں کے نقصان پر263 رنز تھا۔ کپتان انضمام الحق اور شعیب ملک کی موجودگی سے امید بندھی ہوئی تھی کہ وہ ٹیم کو مضبوط پوزیشن تک لے جائیں گے لیکن نئی گیند کے ساتھ بولنگ شروع کرنے والے ویسٹ انڈین بولرز نے صرف94 رنز کے اضافے پر چھ وکٹیں صاف کردیں جن میں سے تین جیروم ٹیلر اور دو کولی مور کے حصے میں آئیں۔
انضمام الحق گزشتہ روز کے اسکور 31 پر ہی ٹیلر کی خوبصورت گیند پر وکٹ کیپر رام دین کے ہاتھوں دبوچے گئے۔ شعیب ملک14 اور20 پر سلپ میں کولی مور کی گیندوں پر لارا اور براوو کے ہاتھوں ڈراپ کیچز کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور42 رنز بناکر کولی مور کی گیند پر براوو ہی کو کیچ دے گئے۔ انضمام الحق اور شعیب ملک کے آؤٹ ہونے کے بعد عبدالرزاق خاموش تماشائی بنے کامران اکمل شاہد نذیر عمر گل اور دانش کنیریا کو آؤٹ ہوتے دیکھتے رہے۔ عبدالرزاق نے کسی بھی مرحلے پر جارحانہ انداز اختیار کرکے تیزی سے رنز میں اضافے کی کوشش نہیں کی بلکہ خود کو دفاعی خول میں بند کرلیا۔ وہ سوا دو گھنٹے کی بیٹنگ میں 92گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے صرف16 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ بائیس سالہ جیروم ٹیلر نے91 رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی۔9 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے دوسری مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے بھارت کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پانچ اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ کولی مور نے پہلے ٹیسٹ کی طرح اس مرتبہ بھی اپنی گیندوں پر ڈراپ کیچز کے باوجود طویل اور متاثر کن بولنگ کی اور31 اوورز میں 67رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم برائن لارا، ڈیرن گنگا، کرس گیل، رناکو مارٹن، شِو نرائن چندرپال، ڈوائن براوو، دنیش رام دین، ڈیو محمد، کوری کالیمور، ڈیرن پاول اور جیروم ٹیلر۔ | اسی بارے میں ملتان ٹیسٹ: 263 پر چار آؤٹ19 November, 2006 | کھیل ڈوپنگ اپیلیں، سماعت ملتوی16 November, 2006 | کھیل طلباء کا نیا کرکٹ ریکارڈ 16 November, 2006 | کھیل چھ دن کا ٹیسٹ کریں: انضمام15 November, 2006 | کھیل بورڈ اثرانداز نہیں ہوسکتا: فخرالدین15 November, 2006 | کھیل پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی14 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||