ویسٹ انڈین کرکٹ کو ’زوال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم کے خیال میں ویسٹ انڈین کرکٹ میں ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کی کمی کی وجہ وہاں باسکٹ بال اور فٹبال جیسے کھیلوں کی مقبولیت ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں کپتان اور منیجر کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ آٹھ سال قبل وہ ویسٹ انڈین کرکٹ اکیڈمی میں کام کر چکے ہیں اور اس دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ساحل سمندر پر کرکٹ کھیلنے کے لیے وہاں اب پہلے جیسا جوش و خروش نہیں رہا۔ انتخاب عالم کے مطابق امریکہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے باسکٹ بال نے ویسٹ انڈیز میں اپنا خوب اثر دکھایا ہے کیونکہ اس کھیل میں بہت پیسہ ہے اور نوجوان اب کرکٹ کی بجائے اس (باسکٹ بال) کی طرف مائل ہیں۔ کرکٹ ورلڈ کپ 1992 کی فاتح پاکستانی ٹیم کے منیجر کے خیال میں یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے جس سے ویسٹ انڈین کرکٹ اس وقت دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے کھلاڑی سامنے نہ آنے کی وجہ سے ویسٹ انڈین ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ انتخاب کے مطابق ویسٹ انڈین ٹیم کا ماضی کی ٹیموں سے کسی طور بھی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس کی کارکردگی ٹیسٹ کے مقابلے میں ایک روزہ کرکٹ میں زیادہ بہتر نظرآتی ہے۔ ’لیکن ویسٹ انڈین ٹیم منیجمنٹ کو ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں بھی سوچ بچار کرنا ہوگا اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا‘۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی جیت کی وجہ ’آل راؤنڈ‘ کارکردگی تھی، البتہ فیلڈنگ میں ابھی بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر گل اور شاہد نذیر نے متاثر کن بولنگ کی جبکہ محمد یوسف نے یادگار اننگز کھیلی۔ انتخاب عالم کہتے ہیں کہ لاہور ٹیسٹ کی جیت کا پاکستانی ٹیم سے کریڈٹ نہیں چھینا جاسکتا، لیکن سری لنکن امپائر اشوکا ڈی سلوا کی امپائرنگ کا معیار خاصا پست رہا اور اتفاق سے ان کے تمام غلط فیصلے ویسٹ انڈیز کے خلاف رہے۔ ’غالباً ڈیرل ہیئر کو ایلیٹ پینل سے ہٹانے کے بعد آئی سی سی کے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں تھی‘۔ | اسی بارے میں ویسٹ انڈیز: برابری کیلیے بیتاب18 November, 2006 | کھیل پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی14 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز فائنل میں پہنچ گیا02 November, 2006 | کھیل مستقل مزاجی کا فقدان ہے، انتخاب13 September, 2004 | کھیل انتخاب: بھارتی پنجاب کے لیے کوچ 10 July, 2004 | کھیل کامیاب بیٹسمین، ناکام کپتان07 June, 2004 | کھیل ویسٹ انڈیز ٹیم کی عوام سے معافی15 March, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||