مستقل مزاجی کا فقدان ہے، انتخاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور منیجر انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی اس میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ انتخاب عالم نے جو اس ہفتے بھارتی پنجاب کرکٹ ٹیم کے کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے چندی گڑھ جارہے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت ایک ہی پول میں ہیں جن کا میچ شائقین کی بھرپور دلچسپی کا حامل ہوگا۔ ’اس قسم کے بڑے میچوں میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کی بھرپور فارم صحیح وقت پر سامنے آتی ہے یا نہیں؟ وقت سے پہلے یا وقت کے بعد فارم میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘ انتخاب عالم کے خیال میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں پہلے سے بہتری آئی ہے لیکن اس سلسلے میں خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے۔’ابھی بھی متعدد پہلو غور طلب ہے اور پروفیشنلزم کی کمی ہے۔ کرکٹ کی بنیادی معلومات کا فقدان ہے، غیرضروری رن آؤٹ ہورہے ہیں ان کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا۔‘ پاکستان ٹیم کے سب سے زیادہ عرصہ منیجر رہنے والے انتخاب عالم کے مطابق یہ تاثر پاک بھارت سیریز میں ختم ہوگیا کہ پاکستان کی بولنگ اور بھارت کی بیٹنگ میں مقابلہ ہوتا ہے۔ پاکستان کو کسی ایک کرکٹر پر بھروسے کی پالیسی ختم کرنی ہوگی۔ پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا اور پرانا مسئلہ پریشر میں بیٹنگ کرنا ہے خاص کر دوسری بیٹنگ میں ٹیم غیرضروری بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میدان میں اترتے وقت نفسیاتی برتری حاصل ہوگی کہ اس نے سری لنکا اور ہالینڈ میں اسے ہرایا ہے اور بھارت کو اس ٹورنامنٹ میں ورلڈ کلاس سچن ٹنڈولکر کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں جو کسی بھی حریف ٹیم کے لیے خوش آئند بات ہے لیکن اس کے باوجود بھارتی بیٹنگ متوازن ہے اور پاکستانی بولرز کو درست لینتھ لائن پر بولنگ کرنی ہوگی۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ وہ یہ بات کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں کہ ون ڈاؤن پوزیشن پر کسی مستند بیٹسمین کو کھلایا جائے۔ ’یہ درست ہے کہ شعیب ملک کو ون ڈاؤن لانے کا فیصلہ درست ثابت ہوگیا لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے‘۔ ان کے خیال میں یوسف یوحنا یا انضمام الحق کو تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرکے زیادہ سے زیادہ اوورز کھیل کر بڑا اسکور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ دونوں بیٹسمین نصف اننگز کے بعد بیٹنگ کے لیے آتے ہیں تو ٹیم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کھلاڑیوں کو اپنا نہیں پہلے ٹیم کے بارے میں سوچنا چاہیئے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||