ویسٹ انڈیز: برابری کیلیے بیتاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ اتوار سے ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔ پاکستان نے آؤٹ آف فارم عبدالرزاق کی جگہ لیفٹ آرم فاسٹ باؤلر سمیع اللہ نیازی کو ٹیسٹ کیپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میانوالی سے تعلق رکھنے والے چوبیس سالہ سمیع اللہ نیازی کو رانا نویدالحسن کے ان فٹ ہونے کے سبب انگلینڈ طلب کیا گیا تھا لیکن وہ اس دورے میں کوئی ٹیسٹ یا ون ڈے نہیں کھیل سکے تھے۔ ویسٹ انڈین بیٹسمین شیونرائن چندر پال کا یہ سوواں ٹیسٹ میچ ہے وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے بیالیسویں اور ویسٹ انڈیز کے آٹھویں کرکٹر ہیں۔ ان سے قبل کلائیو لائیڈ، ویوین رچرڈز، گورڈن گرینج، ڈیسمنڈ ہینز، کارل ہوپر، کورٹنی والش اور برائن لارا ٹیسٹ میچوں کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔ ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا سیریز برابر کرنے کے لئے بے تاب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیریز میں ایک صفر کے خسارے کو کم کرکے بازی برابر کرنے کے لئے یہ میچ بہت اہم ہے۔ برائن لارا کہتے ہیں کہ یہ شیونرائن چندرپال کا سوواں ٹیسٹ میچ ہے اور وہ جیت کے ساتھ چندر پال کی اس خوشی کو دوبالا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنے ملک میں متحد ہوکر کھیلتی ہے اور اسے کمزور نہیں سمجھنا چاہئے اس نے اپنے ملک میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم آسٹریلیا کو ہرانے والی انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی ہے۔ لارا کے مطابق ملتان کی وکٹ لاہور کی طرح سست دکھائی دیتی ہے اور موسم بھی کم وبیش ویسا ہی ہے۔ ان کے بیٹسمینوں کو شاٹس کا درست انتخاب کرنا ہوگا۔ ویسٹ انڈین کپتان کا کہنا ہے کہ کرس گیل اور چندر پال پیٹ کی تکلیف سے مکمل طور پر چھٹکارہ نہیں پاسکے ہیں کرس گیل کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے لیکن امید ہے کہ چندر پال ٹیم میں شامل ہونگےوہ ایک فائٹر ہیں۔
انضمام الحق کا کہنا ہے کہ کسی بھی ٹیم کے لئے یہ آئیڈیل صورتحال ہوتی ہے کہ اسے پہلے ٹیسٹ میں جیت کی صورت میں سیریز میں برتری حاصل ہوجائے اس سے کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا ہوجاتا ہے لیکن آج کل کی کرکٹ میں پہلی جیت سیریز کی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ اپنی برتری کو قائم کرنے کے لئے بقیہ میچوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ لاہور ٹیسٹ جیتنے کے باوجود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سیریز ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم متحد ہوکر کھیل رہی ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ کارکردگی میں تسلسل برقرار رہے۔ انضمام الحق کے لئے ہوم گراؤنڈ ہمیشہ سے خوش بختی کی علامت رہا ہے۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں انہوں نے چار ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں انہوں نےدو سنچریوں اورتین نصف سنچریوں کی مدد سے چار سو پچپن رنز بنائے ہیں۔ لاہور کی طرح ملتان کو بادلوں نے گھیر رکھا ہے اور یہاں بوندا باندی بھی ہوئی ہے۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کی وکٹ کے بارے میں برائن لارا کا کہنا ہے کہ لاہور کی طرح یہ بھی سست ہے لیکن پہلے دن کے ابتدائی گھنٹے میں اس پر بہت ہلچل ہوگی۔ | اسی بارے میں ڈوپنگ اپیلیں، سماعت ملتوی16 November, 2006 | کھیل طلباء کا نیا کرکٹ ریکارڈ 16 November, 2006 | کھیل چھ دن کا ٹیسٹ کریں: انضمام15 November, 2006 | کھیل بورڈ اثرانداز نہیں ہوسکتا: فخرالدین15 November, 2006 | کھیل پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی14 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||