کامیاب بیٹسمین، ناکام کپتان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ میں ناکامی، ویسٹ انڈیز میں انگلستان کے ہاتھوں شکست اور پھر بنگلہ دیش کے ساتھ ایک مشکل سیریز یقیناً ویسٹ انڈیز کے کپتان برائن لارا کے لئے خوشی کی خبر نہیں ہے۔ بحیثیت بلے باز برائن لارا ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زیادہ کی اوسط کے ساتھ نو ہزار سات سو دس رنز بناچکے ہیں جس میں ان کے چار سو ناٹ آؤٹ بھی شامل ہیں۔ برائن لارا نے دوبارہ کپتان بننے کے بعد سترہ میچوں میں ویسٹ انڈیز کی قیادت کی ہے جس میں سے وہ صرف تین میں کامیاب ہوئے۔ جنوبی افریقہ اور انگلستان کے ہاتھوں شکست کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کے خلاف سیریز کے دوران ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنا اعتماد بحال کر سکے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ گو بنگلہ دیش کی ٹیم دوسرا ٹیسٹ میچ ایک اننگز اور 99 رنز سے ہار گئی ہے لیکن پھر بھی بنگلہ دیش کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم پہلا ٹیسٹ میچ برابر کرنے میں کامیاب رہی۔ اس نے پہلی بار چار سو رنز کا ہدف پار کیا، پہلی بار کسی ٹیم کے خلاف پہلی اننگز میں برتری حاصل کی اور سینٹ لوسیا کے ٹیسٹ میچ میں پہلی بار دوسری اننگز میں ڈکلیئر کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔ انگلستان کے ہاتھوں تین صفر سے شکست کے بعد ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑیوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا لیکن لارا نے سیریز ختم ہونے سے پہلے کپتانی چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اب برائن لارا نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو ہرانے میں ناکامی کی صورت میں وہ کپتانی چھوڑ دیں گے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا کہ ان کی جگہ کون لے گا؟ وکٹ کیپر رڈلی جیکبز ایک میچ میں کپتانی کر چکے ہیں، رامنریش ساروان پر کپتانی کا بوجھ ڈالنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کرس گیل اور شونرائن چندرپال ممکنہ متبادل ہو سکتے ہیں لیکن ان پر زیادہ اعتماد ظاہر نہیں جاتا۔ ویسٹ انڈیز جولائی میں انگلستان کا دورہ کر رہی ہے۔ لارا کی ناکامی کے باجود ان کا کوئی قابل اعتماد متبادل نظر نہیں آ رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||