’بھارت 2014ایشین گیمز کا منتظر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کو یقین ہے کہ 2014ء کے ایشین گیمز کی میزبانی اسے مل جائے گی۔ اس سلسلے میں اس کا مقابلہ جنوبی کوریا سے ہے لیکن بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سریش کلماڈی کہتے ہیں کہ چونکہ جنوبی کوریا ایشین گیمز کی میزبانی کرچکا ہے لہٰذا بھارت کو آٹھ سال بعد ہونے والے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی مل جائے گی۔ سریش کلماڈی نے، جو دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے موقع پر کولمبو آئے ہیں، بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ بھارت بڑے بین الاقوامی مقابلوں کا منتظر ہے۔ اس نے اب تک دو مرتبہ ایشین گیمز کرائے ہیں۔ 2010ء کے کامن ویلتھ گیمز بھی بھارت میں ہونے والے ہیں۔ ایشین گیمز کے بعد وہ یقینی طور پر اولمپکس کے بارے میں سوچیں گے۔ سریش کلماڈی نے بتایا کہ 2008ء میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے یوتھ کامن ویلتھ گیمز کا میزبان بھی بھارت ہے۔ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کے حصول کی کوششوں میں پاکستان ہمیشہ اس کا بھرپور ساتھ دیتا رہا ہے۔ دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں بھارت بیس میں سے سترہ کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے۔ قوت بخش ادویات استعمال کرنے پر بھارتی ویٹ لفٹرز کو ایک سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف ساؤتھ ایشین گیمز بلکہ اس سال دوحہ قطر میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔ سریش کلماڈی کو اس پر افسوس ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن نئی دہلی میں ڈوپنگ لیبارٹری قائم کررہی ہے۔ کھلاڑیوں کو بتایا جارہا ہے کہ طاقتور ادویات کا استعمال ہر لحاظ سے گھاٹے کا سودا ہے۔ کھلاڑیوں کوبھی پتہ چل چکا ہے کہ صرف کوچز کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اصل ذمہ دار وہی ہوتے ہیں۔ اب کھلاڑیوں میں بھی اس بارے میں گھبراہٹ پائی جاتی ہے ۔ | اسی بارے میں چمکتے تمغے، بلند عزائم17 August, 2006 | کھیل سکول ٹیم بھی سری لنکا سے روانہ17 August, 2006 | کھیل جنوبی افریقی ٹیم کا دورۂ سری لنکا ختم16 August, 2006 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز 18 اگست سے 14 August, 2006 | کھیل ویٹ لفٹر نہ ہوتا تو پہلوان ہوتا16 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||