چمکتے تمغے، بلند عزائم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیائی ممالک کے کھلاڑی دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں کچھ کردکھانے کے بلند عزائم کے ساتھ اس وقت کولمبو میں اکھٹے ہیں۔ یہ مقابلے ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہیں جس میں کامیابی ان کے مستقبل کے ارادوں کو مزید پختہ کردے گی۔ ساؤتھ ایشین گیمز میں جو افغانستان کی شمولیت سے پہلے سیف گیمز کے نام سے منعقد ہوتے رہے ہیں اصل مقابلہ پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہوتا آیا ہے۔ اس مرتبہ بھی کچھ اسی انداز کی توقع ہے تاہم بھارت نے اس سال دوہا میں ہونے والے ایشین گیمز کو ذہن میں رکھ کر اپنے صف اول کے ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں کو کولمبو نہیں بھیجا ہے لیکن اس کے باوجود بھارتی قوت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے دوسال قبل اسلام آباد میں ہونے والے کھیلوں میں101 طلائی تمغے جیتے تھے اور اس مرتبہ وہ سترہ کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے جن میں سے تیراندازی، شوٹنگ اور ایتھلیٹکس میں اس کے بڑی تعداد میں تمغے جیتنے کے امکانات ہیں۔ قوت بخش ادویات کے استعمال کے سبب ایک سالہ پابندی کے سبب بھارتی ویٹ لفٹرز کولمبو میں نہیں ہوں گے جس کا بھرپور فائدہ پاکستان کو ملے گا۔پاکستانی ویٹ لفٹنگ سکواڈ میں کامن ویلتھ گیمز گولڈ میڈلسٹ شجاع الدین ملک اپنے دو بھائیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ پاکستان نے اسلام آباد گیمز میں 42 طلائی تمغے حاصل کیئے تھے اور اس مرتبہ بھی ویٹ لفٹنگ، کشتی رانی، باکسنگ، ریسلنگ، کراٹے اور سکواش جیسے کھیلوں میں اس کی جیت کے امکانات ہیں۔ اولمپکس ہوں یا دوسرے گیمز ان میں ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں کو ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کولمبو میں سری لنکا کی خاتون ایتھلیٹس اولمپک میڈلسٹ سوزانتھیکا جے سنگھے اور داما یانتھی دارشا سب کی توجہ کا مرکز ہوں گی۔ دامایانتھی دارشا 1991 سے1999 تک سیف گیمز میں سات گولڈ میڈلز جیت چکی ہیں۔ یہ ان کے آخری ساؤتھ ایشین گیمز ہیں جنہیں وہ جیت سے یادگار بنانا چاہتی ہیں۔ اسی طرح سوزانتھیکا جے سنگھے بھی جیت کے لیئے پرعزم ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے بعد سری لنکا ساؤتھ ایشین گیمز مقابلوں کا تیسرا کامیاب ملک ہے۔ دوسال پہلے اسلام آباد میں سری لنکا کے حصے میں پندرہ طلائی تمغے آئے تھے لیکن اس مرتبہ ہوم گراؤنڈ اور اپنے موسمی حالات میں سری لنکن کھلاڑی زیادہ تمغوں کی توقع کر رہے ہیں۔ پاکستان بھارت اور سری لنکا کے مقابلے میں باقی ممالک کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔ نیپال جس نے1999 میں اپنے یہاں ہونے والے سیف گیمز میں 31 طلائی تمغے جیتے تھے 2004 میں صرف7 طلائی تمغے حاصل کرسکا تھا جبکہ بنگلہ دیش کے طلائی تمغوں کی تعداد تین، افغانستان اور بھوٹان کےطلائی تمغوں کی تعداد ایک،ایک رہی تھی جبکہ مالدیپ سونے کا ایک بھی تمغہ حاصل نہیں کرسکا تھا۔ | اسی بارے میں ساؤتھ ایشین گیمز 18 اگست سے 14 August, 2006 | کھیل ویٹ لفٹر نہ ہوتا تو پہلوان ہوتا16 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||