ویٹ لفٹر نہ ہوتا تو پہلوان ہوتا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں حصہ لینے والے پاکستان کے ریکارڈ ساز ویٹ لفٹر شجاع الدین ملک کا کہنا ہے کہ اگر وہ ویٹ لفٹر نہ ہوتے تو گوجرانوالہ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے پہلوانی ضرور اپناتے۔ شجاع الدین ملک اس وقت پاکستان کے سب سے کامیاب ویٹ لفٹر ہیں جن کے پاس سیف گیمز (موجودہ ساؤتھ ایشین گیمز) کا گولڈ میڈل نئے ریکارڈ کے ساتھ موجود ہے لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں حاصل کردہ طلائی تمغہ ہے جسے حاصل کرتے ہوئے انہوں نے کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ شجاع الدین کے دو بھائی سجاد امین ملک اور مطیع الرحمن بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور ساؤتھ ایشین گیمز کے اسکواڈ میں شامل ہیں۔ ان کے چچا ارشد ملک1976 میں بنکاک میں ہونے والی ایشین ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کے گولڈ میڈلسٹ اور1974 کے تہران ایشین گیمز کے کانسی کے تمغے کے مالک ہیں۔ یوں ویٹ لفٹنگ شجاع کے خاندان میں رچی بسی ہے۔ شجاع الدین کہتے ہیں کہ گوجرانوالہ میں ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ چھائی ہوئی ہیں اگر وہ ویٹ لفٹر نہ ہوتے تو پہلوان ہوتے۔ شجاع الدین ملک کو دکھ اس بات کا ہے کہ انہیں ویٹ لفٹنگ کرتے ہوئے اکیس برس ہوگئے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھرپور انداز میں نہ مل سکا۔ وہ دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں ’نہ کسی نے انہیں باہر بھیجا نہ وہ گئے۔‘ ملک ہی میں وزن اٹھاکر اٹھاکر زندگی گزرگئی۔اگر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا موقع ملتا تو ان کے حاصل کردہ تمغوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی۔ شجاع الدین کہتے ہیں ’انہیں یقین تھا کہ وہ آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں نہ صرف طلائی تمغہ جیتیں گے بلکہ نیا ریکارڈ بھی قائم کرینگے۔ان کے خیال میں یہ ویٹ لفٹنگ کے کسی بھی بڑے انٹرنیشنل مقابلے میں پاکستان کا پہلا طلائی تمغہ بھی ہے۔ شجاع الدین کے مطابق کولمبو میں بھارتی ویٹ لفٹرز کے نہ آنے سے میدان پاکستانی ویٹ لفٹرز کے لیئے بالکل صاف ہے لیکن انہوں نے اس ایونٹ کے لیئے جو تیاری کی ہے وہ ایشین گیمز میں کام آئے گی کیونکہ وہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنا چاہتے ہیں۔ شجاع الدین پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کے مستقبل سے مایوس ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولتیں فراہم کیئے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ ویٹ لفٹرز ہوں یا پہلوان ان کی خوراک کا خرچ بہت زیادہ ہے جو اس مہنگائی کے دور میں ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں کو اپنی جیب سے پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ | اسی بارے میں ساؤتھ ایشین گیمز 18 اگست سے 14 August, 2006 | کھیل انڈین ویٹ لفٹروں پر تاحیات پابندی10 April, 2006 | کھیل شجاع: خاموش طبع گولڈ میڈلسٹ22 March, 2006 | کھیل انڈیا کے مزید 3 طلائی تمغے17 March, 2006 | کھیل خواتین : نمائندگی بیس فیصد21 August, 2005 | کھیل بھارتی کھلاڑی معطل19 August, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||