BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شجاع: خاموش طبع گولڈ میڈلسٹ

شجاع الدین
ویٹ لفٹنگ شجاع الدین کا خاندانی شوق ہے
شریف النفس، خاموش طبع اور نرم لہجے والے ویٹ لفٹر شجاع الدین کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ اپنے ملک کے لیے کوئی کارنامہ کرے۔

گو کہ شجاع الدین نے سیف گیمز میں بھی گولڈ میڈل حاصل کیے لیکن ان کی نگاہیں کسی مزید اونچے مقام پر جمی تھیں اور آخر کار تینتیس برس کے اس ویٹ لفٹر نے ملبورن میں اکہتر ممالک کے درمیان ہونے والی دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کے لیے طلائی تمغہ حاصل کر لیا۔

پچاسی کلوگرام کی ویٹ کیٹگری میں شجاع الدین نے ایک ہی جھٹکے سے ایک سو ترانوے کلوگرام وزن اٹھا کر یہ ثابت کیا کہ اگر محنت اور کوشش کی جائے تو پاکستانی کھلاڑی بھی کسی سے کم نہیں۔

 1973 میں پیدا ہونے والے شجاع الدین نے محض دس سال کی عمر میں ویٹ لفٹنگ شروع کی اور صرف تیرہ سال کی عمر میں سولہ سال سے کم عمر کے ویٹ لفٹنگ کے قومی مقابلوں کے فاتح قرار پائے۔

ویٹ لفٹنگ شجاع الدین کا خاندانی شوق ہے جسے ان کے تایا اور سسر محمد سلیم ملک گھر میں لے کر آئے۔ انہوں نے 1955 میں گوجرانوالہ میں اسلامیہ سپورٹس کلب شیرانوالا کی بنیاد ڈالی جس میں ویٹ لفٹنگ کی تربیت دی جاتی۔

شجاع الدین کے چچا ایشین گولڈ میڈلسٹ ارشد ملک نے اس کھیل اور کلب کو آگے بڑھایا اور جسے بعد میں شجاع الدین نے بام عروج دیا۔ ارشد ملک کے مطابق ابھی ان کے خاندان میں کئی اور ایسے ویٹ لفٹر موجود ہیں جو اس کھیل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے خاندان نے ویٹ لفٹنگ کے چودہ بین الاقوامی کھلاڑی پیدا کیے لیکن شجاع الدین نے تو ہمارے گھرانے کا سر فخر سے بلند کر دیا‘۔

شجاع الدین کے چچا نے بتایا کہ شجاع الدین بہت زیادہ محنتی کھلاڑی ہیں اور ان کی اس محنت کو دیکھ کر پورے خاندان کو یقین تھا کہ وہ ان گیمز میں ضرور گولڈ میڈل لیں گے۔

 ہمارے خاندان نے ویٹ لفٹنگ کے چودہ بین الاقوامی کھلاڑی پیدا کیے لیکن شجاع الدین نے تو ہمارے گھرانے کا سر فخر سے بلند کر دیا
ارشد ملک

1973 میں پیدا ہونے والے شجاع الدین نے محض دس سال کی عمر میں ویٹ لفٹنگ شروع کی اور صرف تیرہ سال کی عمر میں سولہ سال سے کم عمر کے ویٹ لفٹنگ کے قومی مقابلوں کے فاتح قرار پائے۔

بھارت کے شہر بنارس میں 1995 میں ہونے والے سیف گیمز اور 2004 میں پاکستان میں ہونے والے سیف گیمز میں طلائی تمغے حاصل کرنے والے اس کھلاڑی کو حکومت پاکستان نے نقد انعامات سے تو نوازا ہی مگر اب شجاع الدین کو اس سال تمغہ امتیاز بھی دیا جا رہا ہے۔

شجاع نے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کر کے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ واقعی اس اعزاز کے حقدار ہیں۔

شجاع گولڈ میڈل جیتنے کے بعد

شجاع الرین کے چچا ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان واپڈا میں ملازم شجاع الدین کے کوئی غیرضروری شوق نہیں۔’ وہ بس کلب جاتا ہے اور باقی وقت گھر میں گزارتا ہے اس کی کسی کے ساتھ کبھی کوئی لڑائی نہیں وہ نرم لہجے میں بات کرنے والا کم گو نوجوان ہے‘۔

شجاع کے بارے میں ان کے ویٹ لفٹر چچا کا اندازہ ہے کہ وہ آئندہ ایشین گیمز میں بھی پاکستان کے لئیےگولڈ میڈل حاصل کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد