خواتین : نمائندگی بیس فیصد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کھیلوں کی تمام فیڈریشنز جرنل کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹیوں میں خواتین کی بیس فیصد نمائندگی ضروری قرار دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز لاہور میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عارف حسن نے اجلاس کے بعد بتایا کہ خواتین کی نمائندگی کا فیصلہ انٹرنیشنل اولمپک کونسل کی ہدایات کے بعد کیا گیاہے۔ خواتین کی بیس فیصد نمائندگی کے لیے فیڈریشنز کو اکتیس دسمبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔ پی او اے کے صدر کے مطابق ہم اسے اپنے آئین کا حصہ بنائیں گے اور جو فیڈریشن آخری تاریخ تک اس پر عمل نہیں کرے گی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ روائتی طور پر پاکستانی خواتین جن کھیلوں میں شرکت نہیں کرتیں جیسے ریسلنگ، باکسنگ اور ویٹ لفٹنگ وغیرہ ان کھیلوں کی فیڈریشنز کو خواتین کی نمائندگی کی پابندی سے مستسنی قرار دیا گیا ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں چند سپورٹس فیڈریشن کے پی او اے کے ساتھ الحاق کے مسئلے کو سلجھایا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان گولف فیڈریشن اور پاکستان بیس بال اینڈ سوفٹ بال فیڈریشن کا پی او اے کے ساتھ الحاق کر لیا گیا۔ ستمبر میں ایران میں ہونے والی چوتھی وومین اسلامک گیمز کے لیے پاکستانی دستے کی بھی حتمی منظوری دی گئی۔ یہ دستہ ایک سو تین خواتین پر مشتمل ہو گا جس میں ستر سے زائد کھلاڑی ہوں گی۔ یہ کھلاڑی گیارہ کھیلوں میں مقابلہ کریں گی۔ مارچ دو ہزار چھ میں ہونے والی کومن ویلتھ گیمز کے دستے پر بھی بات چیت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کومن ویلتھ گیمز میں ستر افراد پر مشتمل دستہ بھیجا جائے گا تاہم اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ کومن ویلتھ گیمز میں بھی پاکستانی کھلاڑی گیارہ کھیلوں میں شرکت کریں گے۔ ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان تمام اٹھارہ کھیلوں میں حصہ لے گا ان گیمز میں تین نئی گیمز سائکلنگ، وشو اور جوڈو بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||