عالمی مقابلے کے لئے پاکستانی تیراک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ سوئمنگ چیمپئن شپ اتوار سے کینیڈا کے شہر مانٹریال میں شروع ہورہی ہے جس کے لیے پاکستان نے پانچ تیراکوں کا انتخاب کیا ہے جن میں امداد علی اور محمد عزیز کے علاوہ تین خواتین رباب رضا، کرن خان اور ثناء واحد شامل ہیں۔ رباب رضا اور کرن خان اس سے قبل بھی عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں رباب رضا کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اولمپکس میں حصہ لینے والی پاکستان کی واحد خاتون تیراک ہیں۔ ثناء واحد بھی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں البتہ ورلڈ سوئمنگ چیمپئن شپ میں شرکت کا یہ ان کا پہلا موقع ہے۔ ثناء واحد نے ورلڈ سوئمنگ چیمپئن شپ میں شرکت سے قبل ہی یہ بات ذہن میں رکھ لی ہے کہ وہ تمغہ جیتنے کا وعدہ نہیں کررہی ہیں کیونکہ وہ دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ وہ تجربہ حاصل کرنے کے لیے کینیڈا جا رہی ہے۔ ان کی ترجیح اپنے انفرادی ریکارڈ کو بہتر بنانا ہے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ خامیوں کو دور کریں۔ ثناء واحد نے کہا کہ پاکستان میں تیراکوں کو ٹریننگ کی بھرپور سہولتیں میسر نہیں ہیں دوسرے ممالک میں کوچنگ کا مربوط پروگرام مرتب کیا جاتا ہے یہی فرق کارکردگی میں سامنے آتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی تیراکوں نے 1948 کے لندن اولمپکس میں حصہ لیا تھا اس کے بعد وہ انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں لیکن علاقائی سطح کے مقابلوں کے علاوہ انٹرنیشنل مقابلوں میں ان کی کارکردگی کا معیار اچھا نہیں رہا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی باگ ڈور طویل عرصے تک سوئمنگ فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے لطیف بٹ کے پاس رہی لیکن ان پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ کھیل پر توجہ سے زیادہ کھیل کی روایتی سیاست میں مصروف رہے اور تیراکی کے لئے جو کچھ کیا جانا تھا وہ نہ ہوسکا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||