اولمپک مشعل روشن کر دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان کے شہر اولمپیا میں ہونے والی ایک تقریب میں 2008 کے بیجنگ اولمپکس کی مشعل روشن کر دی گئی ہے۔ روشن کی جانے والی مشعل آٹھ اگست کو چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچنے سے قبل بیس ممالک کا دورہ کرے گی۔ یہ مشعل اپنے ایک لاکھ سینتیس ہزار کلومیٹر طویل سفر کے دوران استنبول سے بیونس آئرس کے درمیان مختلف شہروں سے گزرے گی اور پھر پیشہ ور کوہ پیما اِسے ایوریسٹ کی چوٹی پر لےجائیں گے۔ اس دوران یہ مشعل تبت سے بھی گزرے گی جبکہ اسے ماؤنٹ ایورسٹ پر بھی لے جایا جائے گا۔ اس سفر کے دوران یہ مشعل کل ایک لاکھ چھتیس ہزار کلومیٹر کا سفر کرے گی۔ قدیم یونانی لباس میں ملبوس اداکاروں نے مشعل روشن کرنے کے لیے روایتی طور پر عدسے کا استعمال کیا۔ مشعل روشن کرنے کی تقریب اس وقت کچھ دیر کے لیے تعطل کا شکار بھی ہوئی جب تبت کے حامی دو مظاہرین نے ایک ہزار پولیس اہلکاروں کا گھیرا توڑ کر اس وقت پرچم لہرانے کی کوشش کی جب چینی نمائندہ تقریب سے خطاب کر رہا تھا۔
جیسے ہی چینی مندوب اور بیجنگ اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ لیو قی نے مشعل روشن کیے جانے سے قبل اپنی تقریر شروع کی تو دو افراد نے بھاگ کر ان کے پیچھے پہنچنے اور سیاہ رنگ کا ایک ایسا پرچم لہرانے کی کوشش کی جس پر اولمپک کے دائرے ہتھکڑیوں کی شکل میں بنائے گئے تھے۔تاہم پولیس نے ان افراد پر قابو پا لیا اور تقریر بنا کسی وقفے کے جاری رہی۔ مظاہرین اولمپک مشعل کو تبت کے راستے چین لے جانے کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ چین نے مشعل کے راستے میں کسی بھی تبدیلی کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے سربراہ جیک راگھ نے اس موقع پر کہا کہ چین میں ہونے والے اولمپکس کے بائیکاٹ کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ مشعل کھلاڑیوں اور دنیا بھی کے شہریوں کے درمیان رابطہ ہے‘۔ | اسی بارے میں اولمپک مشعل پاکستان آئےگی11 February, 2008 | کھیل چین: اولمپکس کے ٹکٹوں کی فروخت28 October, 2007 | کھیل کچھ کھیل ملتوی کیےجا سکتےہیں08 August, 2007 | کھیل آلودگی تماشائیوں کے لیے خطرہ17 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||