 | | | بیجنگ گیمز کے موقع پر کئی تنظیمیں حقوق انسانی کی پامالی کے معاملات دنیا کے سامنے لارہی ہیں |
سن 2008 کے بیجنگ اولمپِک گیمز سے ٹھیک ایک سال قبل آج یعنی آٹھ اگست سے چین میں متعدد پروگراموں کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں آج چین میں 63 پروگرام سرکاری سطح پر منعقد کیے گئے ہیں جبکہ انٹرنیشنل اولمپِک کمیٹی کے سربراہ نے بھی اس موقع پر چین کا دورہ کیا ہے۔ پروگرام کے تحت آج بیجنگ کے تیانانمین اسکوائر میں ایک بڑے جشن کا انعقاد کیا جارہا ہے جہاں چینی رہنما اورآئی او سی کے اعلیٰ اہلکار دس ہزار افراد کے ہجوم میں شریک ہوکر بیجنگ گیمز کی دعوت دینگے۔ انٹرنیشنل اولمِپک کمیٹی یعنی آئی او سی کا کہنا ہے کہ چین نے اولمپِک گیمز کے لیے ’مضبوط بنیادیں‘ قائم کرلی ہیں۔ لیکن حقوق انسانی کی تنظیمیں اس موقع پر بچوں سے مزدوری، تبت میں انسانی حقوق کی پامالی اور سوڈان جیسے غریب ممالک کو چین کی جانب سے اسلحے کی فروخت جیسے مسائل اٹھا رہے ہیں۔ سوڈان اور تبت دو ایسے معاملات ہیں جن پر تنازعات پیدا ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ ایک چینی کمپنی کا لائسنس اس لیے واپس لے لیا گیا کیونکہ اس نے اولمپِک گیمز کے لیے ٹی شرٹ جیسی یادگاری اشیاء بنانے کے لیے بچوں سے کام کرایا۔ بیجنگ اولمپِک گیمز کے سلسلے میں شہر میں فضائی آلودگی کا معاملہ بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ آئی او سی کے صدر ژاک روغے اولمپِک گیمز کی غیرسیاسی نوعیت کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اولمپِک گیمز کے پروجیکٹ کے تحت پچاس ہزار چینی اسکولوں میں 400 ملین بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اولمپِک گیمز تعیری ڈائیلاگ کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ’ہمیں یقین ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران اولمپِک گیمز کا اثر تعلیم، میڈیا اور ماحولیات کے شعبوں پر اچھا رہا ہے۔‘ |