چین: مسلمان رہنما کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں مسلم علیحدگی پسند رہنماء اسماعیل صمد کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔ ان پر گولہ و بارود رکھنے اور ’تقسیم وطن‘ کی سازش کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسماعیل صمد کے خلاف پیش کیے گئے ثبوت نا کافی تھے۔ اسماعیل صمد کی سزائے موت پر عملدارآمد چین کے مسلم اکثریت والے صوبے شنجیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے کیا گیا۔ انہیں سال دو ہزار تین میں پاکستان نے چینی حکام کے حوالے کیا تھا۔ امریکی امداد سے شنجیانگ میں کام کرنے والے ریڈیو ’فری ایشیا‘ نے اسماعیل صمد کی اہلیہ بہوذر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران انہوں نے (اسماعیل صمد) عدالت کو بتایا تھا کہ ان پر دباؤ ڈال کر اقرار جرم کرایا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ بہوذر کے مطابق ان کے شوہر کی لاش تدفین سے ذرا پہلے قبرستان میں ان کے حوالے کی گئی اور انہوں نے ان کے چھاتی کے دل والے حصے پر ایک سوراخ دیکھا۔ ورلڈ وی گرُ کانگریس نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ اسماعیل صمد کا مقدمہ بھی ایسے ہی چلایا گیا جیسے ’وی گر‘ کے دوسرے سیاسی قیدیوں پر چلایا جاتا ہے۔ ارومچی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ لوگوں کی موت کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا ہے لیکن وہ کسی ’خاص‘ قیدی کے بارے میں نہیں جانتیں۔ شنجیانگ کی صوبائی حکومت نے اس واقعہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ شنجیانگ کی ایک کروڑ نوے لاکھ کی آبادی میں اسی لاکھ افراد ترک زبان بولنے والے وی گرُ ہیں۔ اسماعیل صمد علیحدگی پسند تنظیم ’ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ‘ کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ چین نے اس تنظیم کو سرکاری سطح پر دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ اسماعیل صمد کی تنظیم شنجیانگ کے مسلم اکثریت والے علاقوں پر مشتمل ’مشرقی ترکستان‘ کے نام سے ایک علیحدہ وطن کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، جس کی سرحدیں افغانستان، پاکستان، تاجکستان، کرغستان‘ قازقستان، روس اور منگولیا سے ملتی ہیں۔ انیس سو نوے میں شنجیانگ میں بغاوت کے پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں اسماعیل صمد پہلے بھی قید رہ چکے تھے۔ علیحدگی کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انیس سو ستانوے میں جب چینی حکام نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تو اسماعیل صمد پاکستان میں روپوش ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں چین:18’مسلم شدت پسند‘ہلاک08 January, 2007 | آس پاس چینی مسلمان نئی ڈگر پر 18 September, 2004 | آس پاس ’دہشت گردی مخالف‘ فوجی مشق04 August, 2004 | آس پاس چین کی ’غلامی‘ سے نجات کا مطالبہ07 September, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||