چین:18’مسلم شدت پسند‘ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے ملک کے مغرب میں واقع خودمختار علاقے ژِنجیانگ میں مشتبہ شدت پسندوں کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کرکے اٹھارہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی جمعہ کے روز کی گئی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک اور زخمی ہوگیا۔ چین کا دعوٰی ہے کہ اس نے علاقے میں اوئغور مسلم اقلیت کے علیحدگی پسندوں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ چھاپے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چین نے نوبیل امن انعام کے لیے اوئغور کارکن ربیعہ قدیر کی نامزدگی پر تنقید کی ہے۔ ژِنجیانگ میں امن و امان بحال رکھنے سے متعلق محکمہ کے ایک افسر باس یان کے مطابق مذکورہ کیمپ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب پامیر کی سطح مرتفع پر واقع تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کیمپ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کے زیرانتظام چل رہا تھا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی دہشتگردی تنظیموں سے متعلق فہرست میں شامل ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژِنہوا کے مطابق سترہ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ کئی افراد کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ ژِنگجیانگ میں ترکمان نسل کے تقریباً اسی لاکھ اوئغور مسلمان آباد ہیں۔ | اسی بارے میں چین میں دھماکہ، چودہ ہلاک10 May, 2005 | صفحۂ اول چین روس مشترکہ فوجی مشقیں02 August, 2005 | صفحۂ اول افغانستان: 10 چینی باشندے ہلاک10 June, 2004 | صفحۂ اول چین: کیمیاوی گیس سے ہلاکتیں11 August, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||