’دہشت گردی مخالف‘ فوجی مشق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین اور پاکستان کی فوجوں نے چین کی سرزمین پر پہلی بار ایک ’دہشت گردی مخالف‘ مشترکہ مشق کا آغاز کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے فوجی ’دہشت گردی مخالف کارروائیوں‘ کیلئے مشق کررہے ہیں لیکن چین کی جانب سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ دونوں فوجوں کی یہ مشترکہ مشق چین کے شمال مغربی صوبے ژِن زیانگ میں ہورہی ہے جہاں حالیہ برسوں میں اسلامی شدت پسند سرگرم رہے ہیں۔ کسی بھی چینی اہلکار نے اس فوجی مشق کے مقاصد کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس مشق کا تعلق اوئیگور مسلم علیحدگی پسندوں سے ہو۔ اس علاقے میں بسنے والے اوئیگور ترک زبان بولنے والے مسلم ہیں اور انہوں نے چین کی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیے ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان سے قریب ہے۔ چین کی حکومت ماضی میں کہتی رہی ہے کہ یہ علیحدگی پسند گروہ القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہمارے نامہ نگار کے بارے میں اس ’تعلق‘ کے بارے میں شواہد پراسرار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||