چینی بلاگر شناخت چھُپا سکتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی حکومت نے بلاگ لکھنے والوں کے لیے اپنا اصل نام ظاہر کرنا لازمی قرار دینے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ چین میں تقریباً دو کروڑ بلاگر ہیں اور گزشتہ سال حکومت کی طرف سے اس منصوبے کی انٹرنیٹ کے صارفین نے شدید مخالفت کی تھی۔ حکومت نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ نام ظاہر کرنے کی شرط رکھنے سے بلاگ لکھنے والے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اس کے برعکس
نئے ضوابط کے تحت حکومت بلاگروں کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ اپنا اصل نام ظاہر کریں اور ایسے افراد کے لیے بہتر سروس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بلاگروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ چین کے ایک مشہور بلاگر پِنگ کے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی فیصلہ کو سراہا جس کے تحت لوگوں سے ’زبردستی ان کے کوائف حاصل کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے‘۔ ایک اور معروف بلاگر وانگ زاؤفینگ نے کہا کہ وہ بری زبان برداشت کر سکتے ہیں لیکن نام ظاہر کرنے کی شرط کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا ’انٹرنیٹ کی ایک خاصیت بدتہذیبی ہے، ہم بد تہذیب ہیں اور انٹرنیٹ پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے‘۔ | اسی بارے میں چینی انٹرنیٹ صارفین میں اضافہ29 June, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع16 February, 2006 | نیٹ سائنس چین: انٹرنیٹ پر کنٹرول کی کوششیں26 April, 2007 | نیٹ سائنس ’چین اصلاحات کی رفتار تیز کرے‘23 May, 2007 | صفحۂ اول چین میں آن لائن گیمز کی کمپنی06 October, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||