 | | | اب ’ایک بچہ‘ کے اشتہارات میں نرم زبان استعمال کی جائے گی |
’ایک بچہ‘ کے مشہور نعرے کو قابل قبول بنانے کی غرض سے چینی حکومت نے اپنے کچھ اشتہارات میں نرمی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اشتہارات کو کم ظالمانہ بنانے کی اس مہم کے دوران دیہی علاقوں میں لگائے جانے والے چند پوسٹروں پر پابندی لگا جا رہی ہے۔ ان میں سے ایک پوسٹر وہ ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ’ ایک اور بچے کا مطلب ہے ایک اور قبر۔‘ مہم کے دوران ایک سو نوے نئے نعرے یا سلوگن جاری کیے جا رہے ہیں۔ چینی حکام کا خیال ہے کہ آبادی میں اضافے کو قابو کرنے کے لیے انیس سو اناسی سے جاری فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی میں استعمال کیے جانے والے کچھ اشتہاروں کی سخت زبان سے پالیسی کے امیج کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ قومی فیملی پلاننگ کمیشن کے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کی آبادی پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قائل کرنا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کمیشن نے اس سلسلے میں دیہی علاقوں اور انٹرنیٹ پر لگائے جانے والے کچھ غیرمعیاری اشتہارات کی مثالیں بھی دیں۔ ان میں ’بچے کم لیکن سؤر زیادہ پالیں‘ اسقاط حمل سے انکار پر مکان مسمار اور گائے ضبط‘ اور ’ایک اور بچے کا مطلب ہے ایک اور قبر‘ جیسے اشتہار شامل ہیں۔ غیر معیاری اشتہارات کی جگہ متعارف کرائے گئے چند نئے اشتہارات میں’تھکی ہوئی دھرتی ماں زیادہ بچے نہیں پال سکتی‘ اور ’لڑکے اور لڑکیاں دونوں والدین کے جگر کے ٹکڑے ہیں‘ جیسے سلوگن استعمال کیے جائیں گے۔ چین کی اٹھائیس سال سے جاری فیملی پلاننگ پالیسی کے تحت شہری علاقوں میں رہنے والے جوڑوں کو ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ دیہی علاقوں میں پہلی لڑکی ہونے کی صورت میں دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں زبردستی اسقاط حمل، بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرانا اور آبادی میں مردوں اور عورتوں کا تناسب خطرناک حد تک خراب ہونے جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ چونکہ روائتی طور پر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا وارث ایک بیٹا ہو اس لیے کئی خاندان لڑکے کی امید میں اسقاط حمل پر مائل ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں چین سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں اس کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ تھی اور چین کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیوں سے آبادی پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔
|