چین میں ’مزدوروں کا استحصال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں 2008 کے اولمپکس مقابلوں کے لیے مصنوعات تیار کرنے والی کچھ سرکاری کمپنیاں چائلڈ لیبر، مزدوروں کو اوور ٹائم پر مجبور کرنے اور زیادہ منافع کمانے کے لیے انہیں کم اجرت دینے جیسی زیادتیاں کر رہی ہیں۔ عالمی تاجر تنظیمیوں کے ایک گروپ ’پلے فیئر‘ نے بیجنگ میں منعقد ہونے والے اولمپکس مقابلوں سے قبل چین میں چار فیکٹریوں میں مزدورں کے حقوق کی اس قدر سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اسے ان فیکٹریوں میں استحصال کے شواہد ملے ہیں جنہیں سرکاری طور پر اولمپکس کے لیے ٹوپیاں، بیگ اور دوسرا ساز سامان بنانے کا لائسنس ملا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی جانے والی کمپنیوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ برطانیہ میں آئی او سی کا ایک اجلاس منگل کو ہونے والا ہے۔ یہاں تجارتی تنظمیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ 2012 میں لندن میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں اس قسم کی بد مزگی سے بچنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں جیسا کہ مزدوروں کو اورر ٹائم اور اپنی اجرتوں کے حوالے سے جھوٹ بولنے پر مجبور کرنا، کمپنی کا معائنہ کرنے کے لیے باہر سے آنے والے افراد کو اپنی شرائط پر اجازت دینا، مزدوروں کی صحت اور سلامتی سے متعلق خراب صورت حال جیسے معاملات کا ذکر ہے۔
انٹرنشینل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ نے اولمپکس کی تحریک کو شرمندگی سے دوچار کردیا ہے کیونکہ کھیلوں کا سامان بنانے والی لائسنس یافتہ فیکٹریوں میں بین الاقوامی لیبر قوانین کی اس قدر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ کنفیڈریشن کا کہنا ہے کہ ادارے کو مال تیار کرنے والی کمپنیوں کے اوپر براہ راست کنٹرول تو نہیں ہے تاہم توقع کی جا رہی تھی کہ اولمکپس کے میزبان شہر مزدوروں کے حقوق کے قوانین کی پابندی کریں گے۔ بی بی سی نے رپورٹ میں نشاندہی کی جانے والی چار فیکٹریوں میں سے دو کا دورہ کیا۔ ان فیکٹریوں کے مینیجرز نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ تائیوانی کمپنی ’لیکٹ سٹیشنری‘ گزشتہ اکیس سال سے گوانون ڈونگ صوبے کے شہر ڈونگوان میں کام کر رہی ہے۔ کمپنی اولمپکس کے آرائشی نشان کے حامل پیپر کلپ، نوٹ بکس اور سٹیکر تیار کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی میں بچے کام کر رہے ہیں جنہیں ایک دن میں تیرہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے مینیجر مشعل لی نے بی بی سی کو بتایا:’ ہم دنیا کے بہت سے اہم برانڈ کی اشیاء تیار کرتے ہیں جن کے نمائندے ہر ماہ ہماری کمپنی کا دورہ کرکے یہاں صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں چار سو بیس افراد کام کرتے ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ تقریباً سات سو ین یا 91 ڈالر ہے۔ شینزین شہر کے مضافات میں قائم کمپنی ’مین لینڈ ہیڈ ویئر ہولڈنگز‘ نے بھی اس قسم کے الزامات کی تردید کی ہے۔ کمپنی کے پروڈکشن ڈائریکٹر سموئیل وائی نے بی بی سی کو بتایا: ہم یہاں ہرقسم کے حکومتی قوانین کی پابندی کرتے ہیں اس لیے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس قسم کی شکایات کہاں سے آئی ہیں۔ ملازمین یہاں بہت اچھے ماحول اور بہترین سہولیات میں کام کرتے ہیں۔ بی بی سی نے کچھ ملازمین سے بات کی جو فیکٹری کے احاطے سے باہر تعمیر کیے گئے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے مسٹر وائی کے بیان کی تصدیق کی۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’ایگل لیدر پروڈکٹس‘ نامی ایک اور کمپنی کے جو اولمپکس کے بیگ بناتی ہے، زیادہ تر ملازم ایک ماہ میں تیس دن کام کرنے کے پابند ہیں جس میں انہیں زبردستی اوور ٹائم پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے فیکٹری کی ایک خاتون سے بات کی جس نے اپنا نام مس چانگ بتایا، ان کا کہنا تھا کہ وہ مذکورہ رپورٹ سے اتفاق نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی فیکٹری اولمپکس کے لیے بیگ تیار کر رہی ہے۔ ان کے کام کے اوقات کار صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک ہیں جس دوران نہ تو کام کے اوقات میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہاں بچے ملازم ہیں۔ بیجنگ اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے رپورٹ تو نہیں پڑھی ہے، ’تاہم ہم جب بھی کسی کمپنی سے کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو اس میں بنیادی بات یہی ہوتی ہے کہ کمپنی چین میں رائج لیبر قوانین پر عمل درآمد کی سختی سے پابند ہوگی‘۔ |
اسی بارے میں چین عوام کو آزادی فراہم کرے: بش20 April, 2006 | آس پاس چین ترقی کی رفتار سے پریشان 16 April, 2006 | آس پاس امریکہ انسانی حقوق مخالف: چین03 March, 2005 | آس پاس یونان: اولمپکس مہنگے پڑے13 September, 2004 | صفحۂ اول لندن اولمپکس کیلئے تیار15.05.2003 | صفحۂ اول ایتھنز گرمائی اولمپکس کی تیاری 11 May, 2004 | صفحۂ اول چین کی نئی شہری غربت01 March, 2007 | آس پاس چین میں پانی کی قلت01 June, 2006 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||