چین: بچوں کے سمگلروں کو سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں ایک یتیم خانے کے ڈائریکٹر اور نو دیگر افراد کو بچوں کی خرید و فروخت اور ملک سے باہر سمگل کرنے کے الزام میں قید کی سزا دی گئی ہے۔ ان کے علاوہ صوبہ ہنان کے بائیس دیگر حکام کو دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک جاری رہنے والے اس کاروبار میں ملوث ہونے کی وجہ سے ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ زنوا نیوز ایجنسی کے مطابق صرف دو ہزار پانچ میں صوبہ ہنان کے یتیم خانوں میں اٹھہتر بچوں کی خرید و فروخت ہوئی جنہیں باہر کے ملکوں میں بے اولاد لوگ اپنا لیتے تھے۔ تاہم ان بچوں کو اپنانے والوں کی قومیت کا پتہ نہیں چل سکا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان بچوں کو چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ لایا جاتا تھا اور وہاں اس مقصد کے لیے موجود چھ یتیم خانوں میں انہیں چار سو سے پانچ سو چالیس ڈالر کے عوض بیچا جاتا تھا۔ ہنان میں سوشل ویلفیئر ہوم کے ڈائریکٹر کو اس معاملے میں ان کے کردار کی وجہ سے ایک سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم وہ ابھی تک مفرور ہیں۔ نوکری سے برخواست کیے جانے والے زیادہ تر ملازمین ان یتیم خانوں میں کام کرتے تھے۔ بچوں کے تین سمگلروں کو پندرہ سال قید اور دیگر چھ کو تین سے تیرہ سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔ چین میں بچوں کی خرید و فروخت ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ملک کی ’ایک بچے‘ کی پالیسی اور اس میں بھی لڑکے کی خواہش ان شکایات میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں ہیروئن سمگلنگ پر سزائے موت کا حکم14 February, 2006 | آس پاس سمگلنگ کی فضائی کوشش ناکام23 August, 2005 | آس پاس جسم فروش گروہوں کاپردہ فاش02 July, 2005 | آس پاس امریکی رپورٹ: اتحادیوں کو انتباہ 05 June, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||