BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 February, 2006, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیروئن سمگلنگ پر سزائے موت کا حکم
انڈونیشیا کی ایک عدالت نے آسٹریلیا کے دوشہریوں کو بالی کے جزیرے سے ہیروئن سمگل کرنےپر سزائے موت سنائی ہے اور کہا ہے کہ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا جائے۔

انڈریو چن اور مایورن شکمارن پر الزام ہے ہے کہ وہ نو آسٹریلوی شہریوں کے اس گروپ کے سرخیل تھے جسے گزشتہ برس اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سات دوسروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس طرح عمر قید کی سزا پانے والوں کی تعداد چار سے بڑھ کر سات ہوگئی ہے۔

آسٹریلیا میں اس مقدمے کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہاں سزائے موت کی ممانعت ہے۔

منگل کے فیصلے سے قبل آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ الیگزینڈر ڈاؤنر نے اپنے ملک کی جانب سے سزائے موت کی مخالفت کی تھی۔

بالی کے ان نو ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے انڈونیشیا سے آسٹریلیا میں آٹھ اعشاریہ تین کلو گرام ہیروئن سمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔

ان ملزمان میں سے کچھ کو جن کے جسموں سے ہیروئن بندھی ہوئی تھی، بالی کے ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا تھا۔دوسروں کو بالی ہی کے ایک ہوٹل کے کمرے سے پکڑا گیا تھا۔

تین ججوں پر مشتمل ایک عدالت نے منگل کو اپنے فیصلے میں چوبیس سالہ سکامارن کو اس منصوبے کا اہم کردار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔

ایک علیحدہ سماعت میں بائیس سالہ چین کو بھی سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔

استغاثہ نے اپنے دلائل میں زور دیا تھا کہ ان دونوں افراد کو ان کے جرم کی نوعیت دیکھتے ہوئے سزائے موت دی جائے۔

ان سزاؤں سے آسٹریلیا اور انڈونیشیا میں جاری کشیدگی میں اور اضافہ ہوگا۔ آسٹریلیا نے موت کی سزا بیس برس پہلے ختم کر دی تھی۔

آسٹریلیا کے اکثر لوگوں کو اس بات پر غصہ ہے کہ حکومت کے عندیے پر انڈونیشیا کے حکام نے ملزمان کو بالی کی پرواز پکڑنے سے قبل گرفتار کر لیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو سڈنی پہنچنے پر گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا۔

سزائے موت سنائے جانے سے قبل آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ ان کی حکومت سزائے موت کے خلاف ہے۔

انہوں نے آسٹریلیا کی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’جہاں بھی کسی آسٹریلوی کو سزائے موت ہوگی ہم اس کے لئے رحم کی اپیل کریں گی اور ہم ایسے لوگوں کی نمائندگی بھی کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد