امریکی رپورٹ: اتحادیوں کو انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے خلیجی اتحادیوں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کا انسانی سمگلنگ کا ریکارڈ بہتر نہ ہوا تو ان پر پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ امریکی حکومت نے بتایا ہے کہ جن آٹھ ممالک کو انسانوں کی سمگلنگ کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے ان میں وہ چار خلیجی ملک بھی شامل ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ان ممالک نے اپنے انسداد انسانی سمگلنگ کے نظام کو بہتر نہ بنایا امریکہ ان پر پابندیاں نافذ کر دے گا۔ کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کو امریکی رپورٹ کے میں وہ ملک قرار دیا گیا ہے جو انسانی سمگلنگ کا مرکز سنجھے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً اسی ہزار افراد جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہوتے ہیں ان ملکوں کی سرحدیں عبور کرتے ہیں۔ وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائیس نے انسانوں کی سمگلنگ کو جدید دور کی غلامی کہا ہے۔ ان کے علاوہ جن ممالک کے نام بتائے گے ہیں ان میں کمپوچیا، جمئیکا، ٹوگو، کیوبا، ایکوڈور، جنوبی کوریا، سوڈان اور ونیزویلا شامل ہیں۔ اس سے قبل 2004 میں آخر الذکر چھ ممالک کے نام بتا دیے گے تھے۔ دو سو چھپن صحفوں پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیج میں انسانوں کی سمگلنگ کی زیادہ تر ایشیا اور افریقہ سے ہوتی ہے۔ سمگلنگ کے شکار عموماً تین سال کے بچے اور جنسی کاروبار میں ملوث خواتین ہوتی ہیں۔ان بچوں کو اونٹ سواری یعنی اونٹوں کی دوڑ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اونٹ سواری میں ملوث بچوں کو کم خوراک دی جاتی ہے اور تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔ امریکی انسدادِ سمگلنگ کے سربراہ جان ملر کا کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی بچوں کو ایسے خطرناک کھیل میں اس طرح استعمال نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ نے ان ممالک کو انسانوں کی سمگلنگ کے اعتبار سے بدترین ممالک میں شمار کیاگیا ہے۔ ان ممالک کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر آنے والے تین ماہ کے اندر انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف نظام کو بہتر نہیں کیا تو امریکہ ان ممالک پر پابندیاں نافذ کردے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||