چین: پیوند کاری کے نئے قوانین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ حکومت نے انسانی اعضاء کی پیوند کاری سے متعلق نئے ضابطے متعارف کروائے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت یکم مئی سے ڈاکٹروں یا ہسپتال نے انسانی اعضاء کی تجارتی بنیادوں پر پیوند کاری پر لگائی پابندی کو توڑا تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ ہسپتال بند کردیا جائے گا۔ کئی ہسپتال جنہیں پہلے اعضاء کی پیوند کاری کی عام اجازت تھی، اب وہ پیوند کاری کا کام بڑے پیمانے پر نہیں کر سکیں گے۔ نئے ضابطوں کے مطابق اعضاء کا عطیہ دینے والے کی مرضی کے بغیر اگر کوئی عضو اس کے جسم سے نکالا گیا تو وہ جرم تصور کیا جائے گا۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کی اعضاء کی پیوند کاری کی صنعت میں غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء کے حصول کا طریقہ عام ہے جیسے کہ بڑی تعداد میں انسانی اعضاء پھانسی دی جانے والے قیدیوں کے جسموں سے غیرقانونی طریقوں سے نکالے جاتے ہیں۔
شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طریقوں سے انسانی اعضاء کی پیوندکاری فوج اور فنڈز کی کمی کے شکار چین کے ہیلتھ سسٹم کے لیے بھی ایک منافع بخش اور تیزی سے پھلتا پھولتا کاروبار بنتا جا رہا ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق نئے قوانین کے تحت ڈاکٹر اور کلینک جو انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت میں ملوث پائے گئے ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور ان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ نئے قوانین کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر افراد پر جسم کا کوئی بھی عضو عطیہ کرنے یا بیچنے کی پابندی ہو گی اور انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق ہر عمل کی اجازت ایتھنک کمیٹی سے لینی ہو گی۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے عمل میں آزادانہ اور اور رضاکارانہ بنیادوں پر عطیہ دینے کاخیال رکھناضروری ہے۔ گزشتہ سال چینی حکام نے نے بی بی سی کی اس خبر کی تردید کی تھی جس کے مطابق پھانسی کے بعد قیدیوں کے جسموں سے ان کے اعضاء غیر قانونی طور پر نکال لیے جاتے ہیں اور اعضاء نکالے کے حوالے سے انہیں بے خبر رکھا جاتا ہے اور ان اعضاء کو بعدازاں بیرونِ ملک بیچ دیا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ چین میں اس وقت اعضاء کی طلب اور ان کی فراہمی میں بڑا خلاء موجود ہے۔ محمکہ صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریبًا ایک اعشاریہ پانچ ملین مریضوں کو ہر سال نئے اعضاء کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ اس ضرورت کے مقابلے میں محض دس ہزار اعضاء ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ |
اسی بارے میں پیوند کاری کیلئے قیدیوں کے اعضاء19 April, 2006 | آس پاس سؤر کے اعضاء، انسان میں استعمال؟04 September, 2004 | نیٹ سائنس جسم میں چِپ لگ سکتی ہے06 July, 2004 | نیٹ سائنس چین کی نئی شہری غربت01 March, 2007 | آس پاس چین کو’ٹیسٹ‘ پر تنقید کا سامنا19 January, 2007 | آس پاس چین میں بیویوں کی کمی ممکن 12 January, 2007 | آس پاس ’چین آلودگی روکنےمیں ناکام‘ 11 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||