’چین آلودگی روکنےمیں ناکام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چین آلودگی کے اخراج کو کم کرنے کے ہدف کوحاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ چین نےملک میں اقتصادی ترقی کے نتیجے میں ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کےمد نظر یہ ہدف طے کیا تھا۔ لیکن اس معاملے میں صرف بیجنگ اور پانچ دوسرے شہر ہی آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج کو 4 فی صد سے کم کر کے 2 فی صد تک کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایک اہلکار ہان وینکے نے کہا کہ یقینی طور پر چین کے تمام شہر اس ہدف کو پوراکرنے میں نا کام رہے ہیں۔حالانکہ چینی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ ہدف حاصل کرنے میں کتنے پیچھے ہیں۔ چینی اہلکار نے کہا کہ آلودگی کو کم کرنے کے نشانے کو پورا نہیں کرنے کی وجہ یہاں صنعتی پالیسی کی کمزوریاں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چین میں زیادہ تر آلودگی کوئلے سے چلنے والی فیکٹریوں کی سبب پھیلتی ہیں۔ کئی فیکٹریاں آلودگی کو قریب کی ندیوں میں ڈالتی ہیں۔ | اسی بارے میں نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس تہران: آلودگی، سینکڑوں بیمار10 December, 2005 | آس پاس عالمی حدت: کیوٹو نہیں کچھ اور 11 January, 2006 | آس پاس لو ساحل بھی چلا02 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||