تہران: آلودگی، سینکڑوں بیمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تہران میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور سولہ سو سے زائد لوگوں کو آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب ہسپتال جانا پڑا۔ ہسپتالوں کی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ دل اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ تھکاوٹ اور سر درد کی شکایت بھی کر رہے ہیں۔ گردوغبار کی لہر کو کم کرنے کی غرض سے ٹریفک کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور شہر کی صفائی کے لیے سرکاری دفاتر اور سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر آلودگی کا یہی حال رہا تو ہزاروں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ تہران سے بی بی سی کے نمائندے فرانس ہیریسن نے بتایا کہ بارش نہ ہونے اور ہوا کے نہ چلنے کے باعث شہر کے اردگرد پہاڑوں نے گردوغبار کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے آلودگی کے لیے بنائے گئے ادارے کے سربراہ ملک افضلی نے اتحاد اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودگی سے مرنے والوں کی تعداد منگل کے روز دارالحکومت میں ہونے والے طیارے کے حادثے سے کم نہیں ہے جس میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم دھویں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ پیر کے روز سے شہر کے اندرونی علاقوں میں گاڑیوں کو صرف متبادل دنوں میں آنے کی اجازت ہو گی۔ اس بات کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ ان کی نمبر پلیٹوں کے شروع میں طاق عدد ہے یا جفت عدد۔ حکام شہر میں چلنے والی تیس لاکھ گاڑیوں کو اس آلودگی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گاڑیوں میں آلودگی کم کرنے کا جدید فلٹر موجود نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تہران میں ہر سال فضائی آلودگی کے باعث پانچ ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ایران پر دنیا کے صبر کی انتہا‘09 December, 2005 | آس پاس ایران: نئے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر05 December, 2005 | آس پاس عالمی حدت: امریکہ پر دباؤ29 November, 2005 | آس پاس ماحولیات ’نئے مذاکرات‘ کا وعدہ09 July, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||