 | | | چین نے ہیومن رائٹس بہتر کرنے کا وعدہ کیا ہے |
حقوقِ انسانی کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ چین سن 2008 کے اولمپِک گیمز کے نام پر سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کی خاطر چینی حکومت مخالفین کو بغیر عدالتی کارروائی کے گرفتار کررہی ہے اور میڈیا اور انٹرنیٹ پر کنٹرول لگارہی ہے۔ چینی حکومت نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ پر ابھی ردعمل ظاہر نہیں کی ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال کے اولمپگ گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں چین انسانی حقوق کے کارکنوں، معروف وکیلوں اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ کرنے والوں پر کریک ڈاؤن کررہا ہے۔ تاہم ایمنسٹی نے سزائے موت سے متعلق قوانین میں اصلاحات اور غیرملکی صحافیوں کے لیے نرمی جیسے اقدامات کے لیے چین کی تعریف بھی کی ہے۔ لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے باوجود چین پرامن اختلافات کو کچلنے کا مرتکب ہے۔ ایمنسٹی نے انٹرنیشنل اولمپِک کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے معاملات کو چینی حکام کے سامنے پیش کرے۔ ایشیا پیسیفک کے لیے ایمنسٹی کی نائب ڈائریکٹر کیتھرین بابیر نے کہا کہ اولمپِک کمیٹی ایسے اولمپِک گیمز نہیں کرانا چاہے گی جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دھبہ ہو۔ لیکن انٹرنیشنل اولمپِک کمیٹی کے بورڈ نے کہا ہے کہ یہ کھیل کی ایک تنظیم ہے جس کا کوئی سیاسی رول نہیں ہے۔ سن 2001 میں چینی حکومت نے کہا تھا کہ اگر 2008 کے اولمپِک گیمز کرانے کا موقع اسے ملا تو اس سے چین میں انسانی حقوق کے فروغ میں مدد ملے گی۔
|