خوف کی سیاست سے بٹتی ہوئی دنیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار چھ کے بارے میں بدھ کو جاری کی جانے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’خوف کی سیاست ایک ایسی دنیا کو پیدا کر رہی ہے جو خطرناک حد تک بٹتی جا رہی ہے‘۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’طاقتور حکومتیں اور مسلح جماعتیں انسانی حقوق کو ختم کرنے اور متضاد رجحانات رکھنے والی خطرناک دنیا پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ کر خوف کو پھیلا رہی ہیں‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل، آئرین خان نے کہا ہے کہ’عاقبت نااندیش، خوف پھیلانے والی اور تنازعات کا باعث پالیسیوں کے ذریعے، حکومتیں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کو کم سے کم کر رہی ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ یہ پالیسیاں نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کی پرورش کر رہی ہیں، معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں، عدم مساوات میں شدت لارہی ہیں اور مزید تشدد اور تنازعات کے بیج بو رہی ہیں‘۔ ان کے مطابق ’خوف کی سیاست، انسانی حقوق کو استحصال کی ایسی پستی میں لے جا رہی ہے جہاں نہ تو کوئی حق مقدس ہے اور نہ ہی کو ئی انسان‘۔ آئرین خان کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق کی لڑائی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی فہرست نےاس نوع کے شدید اختلافات پیدا کر دیے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی تعلقات پر اپنا سایہ اس طرح ڈالا ہے کہ تنازعات کا حل اور شہریوں کا تحفظ دشوار تر ہو گیا ہے‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل کہتی ہیں کہ عدمِ اعتماد اور تقسیم کے زخموں سے چور، بین الاقوامی برادری 2006 میں انسانی حقوق کے بڑے بحرانوں کے دوران اکثر کمزور اور متذبذب رہی ہے، چاہے وہ چیچنیا، کولمبیا اور سری لنکا کے فراموش تنازعات تھے یا مشرق وسطیٰ کے اہم ترین جھگڑے۔ رپورٹ کے لیے لکھے گئے پیش لفظ کے مطابق اقوام متحدہ نے لبنان کے تنازعے میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے ارادے کا حوصلہ پیدا کرنے میں کئی ہفتوں کا وقت لگایا جس کے نتیجے میں لبنان میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباً بارہ سو تک جا پہنچی۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی برادری نے فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حر کت پر لگی شدید پابندیوں، اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں اور فلسطینی جماعتوں کی ان باہمی لڑائیوں سے نمٹنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا
مس خان کہتی ہیں کہ ’ افریقہ ایک طویل عرصے سے مغربی حکومتوں اور کمپنیوں کے لالچ کا کا نشانہ ہے اور اب اسے چینی حکومت اور چینی کمپنیوں کا بھی سامنا ہے اور چینی انسانی حقوق کا خیال کم ہی کرتے ہیں۔ افریقہ میں خاص طور پر دارفور دنیا کے ضمیر کا ایک رستا ہوا ناسور ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی راہ میں اس کے طاقتور ترین ارکان کا عدم اعتماد اور دوہرا معیار روڑے اٹکاتا ہے۔ سوڈانی حکومت اقوام متحدہ سے تعاون نہیں کرتی اور ان گروہوں کو غیر مسلح نہیں کرتی جو ہمسائے ملک میں شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ اس تنازعے میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اس سے کوئی دس گنا افراد اب تک بے گھر ہوئے ہیں اور ملیشیا افواج کے حملے اب چاڈ اور جمہوریہ وسطی افریقہ کی جانب پھیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے ثباتی کی ایک قوس ہے جو بڑی کامیابی سے پاکستان کی حدود سے افریقہ کے مغربی سرے تک پھیلتی چلی جاتی ہے اور ان تمام علاقوں میں مسلح گروپ اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں ۔ مس خان کہتی ہیں’جب تک حکومتیں اُن دُکھوں کا کوئی حل تلاش نہیں کرتیں جن کی بناء پر یہ گروپ پنپتے ہیں تب تک وہ ایسی مؤثر قیادت بھی فراہم نہیں کرسکیں گی جو ان گروپوں کو ان بدسلوکیوں کا حساب دینے اور جواب دہ ہونے پر مجبور کر سکیں جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک انسانی حقوق کے بارے میں پیش بینی کرنا نہایت ہولناک ہے‘۔ مس خان کے مطابق ’افغانستان میں بین الاقوامی برادری اور افغانستان حکومت نے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ایک مؤثر ریاست تعمیر کرنے کا موقع گنوا دیا اور عوام کو شدید عدمِ تحفظ، بد عنوانی اور پھر سے جی اٹھنے والے طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ عراق میں، سلامتی افواج نے فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانے کی بجائے اسے اور ہوا دی ہے۔ عدالتی نظام المناک طور پر ناکافی ثابت ہوا ہے اور عراق میں صدام کی حکومت کے بد ترین وطیرے، تشدد، غیر منصفانہ مقدمات، سنگین سزائیں اور آزادانہ زنا بالجبر کا ماحول جو کا توں رواں دواں ہے۔ پیش لفظ کے مطابق ’ کئی ممالک میں خوف کے بل پر چلنے والا ایک سیاسی ایجنڈا امتیازی سلوک کا باعث بن رہا ہے، ’امیروں اور غریبوں‘ کے درمیان خلیج کو بڑھا رہا ہے اور ’ان کے‘ اور ’ہمارے‘ درمیان، اور سب سے دُور کنارے پر پڑے لوگوں کو بغیر کسی تحفظ کے چھوڑ رہا ہے‘
مس خان کہتی ہیں کہ ’فقط افریقہ میں لاکھوں لوگوں کو اکثر ترقی اور اقتصادی بالیدگی کے نام پر، کسی مناسب طریقہ کار، معاوضے یا متبادل جائے پناہ کے بغیر بےگھر کردیا گیا۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں ترک وطن یا ہجرت کر کے یا پناہ کے لیے آنے والوں کوقبضہ گیر یا خطرہ بنا کر پیش کیا گیا اور ان کے خلاف ایسے سخت ترین اقدامات کیے گئے جو انسانی حقوق اور برتاؤ کے بین الاقوامی معیارات کے منافی ہیں۔ سیاسی تقاضوں اور سلامتی کے نام پر پناہ حاصل کرنے کے خلاف اور سرحدوں پر کنٹرول کے ایسے طریقے اپنائے گئے جو تحفظ کے بجائے اخراج کا باعث بنے۔ جب کہ تارکینِ وطن کار کنوں کو جنوبی کوریا سے لے کر ڈومینیکن ریپبلک تک، دنیا بھر میں بے یار و مددگار اور مجبور و قہر کا شکار چھوڑ دیا گیا۔ مغربی ممالک میں تشدد کے خلاف امتیازی حکمتِ عملیوں کے نتیجے میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مابین تفریق گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا، اسلام سے خوف، یہودیوں کی مخالفت، عدم برداشت اور مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثناء ، روس میں وسیع پیمانے پر نفرت پر مبنی جرائم ہوئے، جب کہ ڈبلن سے لے کر بریٹسلاوا تک روما برادری کی علیحدگی اور اخراج جاری رہا۔ جس سے نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کا مقابلہ کرنے میں قیادت کی نمایاں ناکامی کا اظہار ہوتا ہے۔ بڑھتے ہوئے متضاد رجحانات اور ملکی سلامتی سے متعلق خوف میں اضافے نے تحمل اور اختلاف رائے کے لیے گنجائش محدود کر دی۔ 2006 میں ایران سے لے کر زمبابوے تک، انسانی حقوق سے متعلق کئی آزاد آوازوں کو خاموش کر دیا گیا۔ اظہارِ رائے کی آزادی کو مختلف ذرائع سے دبایا گیا، جن میں ترکی میں مصنفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات چلانے سے لے کر فلپائن میں سیاسی طور پر سرگرم کارکنوں کو ہلاک کرنا، چین میں انسانی حقوق کے محافظین کو مستقل ہراساں کرنا، ان کے خلاف جاسوسی کرنا اور اکثر قید کر دیناشامل ہے۔ قدیم طرز کے دباؤ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مصر جیسے ملکوں میں ایک حیات نو حاصل کر لی، جب کہ برطانیہ میں تشدد کے خلاف ڈھیلے قوانین آزادیِ رائے کے لیے ایک امکانی خطرہ بن گئے۔ نائن الیون کے پانچ سال بعد ، 2006 میں یہ نئی شہادت سامنے آئی ہے، جس میں امریکی انتظامیہ نے دنیا کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر اغوا، گرفتاریوں، بے رحم حراستوں، تشدد اور قیدیوں کو دنیا بھر میں ایک خفیہ قید خانے سے دوسرے میں آزادانہ تبادلے کے لیے ایک وسیع میدانِ جنگ کے طور پر استعمال کیا، جس کو امریکہ نے ’غیر معمولی پیش کشوں‘ کا نام دیا۔ ’امریکی قیادت میں جاری ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اور اس کی ’غیر معمولی پیش کشوں‘ کے پروگرام سے زیادہ کسی چیز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر موزوں طریق سے نمایاں نہیں کیا ہے، جس نے اتنے دور دراز ممالک تک کو ملوث کیا جیسے اٹلی اور پاکستان یا جرمنی اور کینیا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کے خلاف غلط طور پر تیار کی گئی حکمت عملیوں نے تشدد کے خطرے کو کم کرنے یا تشدد کے شکار افراد کو انصاف کی یقین دہانی کرانے کی بجائے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو دنیا بھر میں نقصان پہنچایا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ خوف کی سیاست کو مسترد کر کے اینی کوششوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں اور قانون کی حکمرانی پر صرف کیا جائے۔ مس خان کہتی ہیں کہ ’جس طرح عالمی درجۂ حرارت کے معاملے میں بین الاقوامی تعاون پر مبنی ایک عالمی کارروائی درکار ہے، اسی طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی فقط عالمی اتحاد اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے ہی نمٹا جا سکتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں 2008 گیمز، ایمنسٹی کی تنقید30 April, 2007 | آس پاس نیٹ آزادی: ایمنسٹی کی مہم28 May, 2006 | نیٹ سائنس گوانتانامو میں تشدد کے تازہ واقعات: ایمنسٹی 11 January, 2006 | آس پاس ’ایمنسٹی کی رپورٹ لغو ہے‘ بش01 June, 2005 | آس پاس ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بانی کا انتقال 27 February, 2005 | صفحۂ اول گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا احمدیوں کوتحفظ دیں: ایمنسٹی 05 November, 2004 | صفحۂ اول برطانوی فوج کے مظالم: ایمنسٹی رپورٹ11 May, 2004 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||