ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بانی کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بانی پیٹر بیننسن برطانیہ کے شہر اوکسفورڈ میں تراسی برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ مسٹر بیننسن پیشے سے وکیل تھے اور انہوں نے سن انیس سو اکسٹھ میں پرتگال میں دو طالب علموں کی گرفتاری کی خبر سن کر انسانی حقوق کی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا انتقال جمع کو جان ریّ کلف اسپتال میں ہوا۔ پرتگال میں ان دو طالب علموں کو آزادی کا جشن منانے کے لیے شراب پینے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈالا گیا تھا۔ اب ایمنسٹی انٹرنیشنل دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی غیر جانبدار تنظیم ہے۔ اور دنیا بھر میں اس کے تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ کارکن ہیں۔ اینسٹی کی ارینے حان کا کہنا ہے کہ پیٹر بیننسن کی زندگی حوصلہ مندی اور پرعظم ہونے اور اپنے ارد گرد ہونے والی نا انصافیوں کے حلاف لڑنے کی ایک زندہ مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جیلوں کے اندھیروں میں جہاں عقوبتخانوں کی ہولناکی تھی اور دنیا بھر کے موت گھروں میں روشنیاں لے کر گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||