سعودی عرب: معافی کی مدت ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کو اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کی مدت جمعرات کی رات کو ختم ہو گئی۔ سعودی عرب میں شہزادہ فہد نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کی رات تک جو شدت پسند اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں گے انہیں عام معافی دے دی جائے گی۔ صرف چند لوگوں نے اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا تاہم ایک مصالحت کار کا کہنا ہے کہ وہ چند اور شدت پسندوں سے جن میں مبینہ طور پر القاعدہ کا ایک سرکردہ رکن بھی شامل ہے بات چیت چل رہی ہے۔ مصالحت کار شیخ سفر الحاوئی نے پہلے کہا تھا کہ امید ہے کہ صالح محمد الاافی بھی اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں گے۔ عام معافی کے اعلان کے ساتھ حکام نے یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ مہلت ختم ہونے کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔ فیض الکشمان چوتھا شدت پسند تھا جس نے طائف میں اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا تھا۔ اُفی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عبدالعزیز المقرین کے ہلاک ہونے کے بعد انہوں نے سعودی عرب میں القاعدہ کے گروہ کی قیادت سنبھال لی تھی۔ اُفی پر شبہ ہے کہ وہ ریاض میں پولیس کے ساتھ ہونے والے تصادم میں بھی ملوث تھے جس میں ان بیوی اور تین بچوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مصالحت کار جن دو اور شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں انہوں نے اپنے نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے تاہم ان کا شمار سعودی عرب کے چھبیس مطلوب شدت پسندوں میں ہوتا ہے بی بی سی کے مشرق وسطی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معافی کی پیش کش سے حکام کی توقعات کے برعکس بہت کم لوگ سامنے آئے ہیں۔ سعودی عرب میں گزشتہ ایک سال میں نوے افراد جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ شدت پسند غیر ملکیوں کو سعودی عرب سے نکلنے کے لیے ان پر حملے کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||