انسانی حقوق کی پامالی پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوقی انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سالاری میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے خلیجی ممالک میں انسانی حقوق پر بڑے دور رس نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی ’دھجیاں‘ اڑا دی ہیں۔ اس کے مطابق اس علاقے کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہتر ہو رہا تھا لیکن وہ اب اس جنگ کو جبرو تشدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جنگ کی ’بائپروڈکٹ‘ تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتیں ہیں۔ ایمنسٹی نے کہا کہ خصوصاً امریکہ نے گوانتاناموبے میں لوگوں کو وکیل تک رسائی کے بغیر رکھا ہے، ان کے ساتھ برا سلوک کیا ہے، اور انہیں ان کے خاندان والوں سے ملنے اور خط و کتابت سے محروم رکھا۔ رپورٹ کے مطابق گوانتاناموبے کا اثر خلیجی ممالک میں زیادہ محسوس کیا گیا کیونکہ تین چوتھائی سے زیادہ زیرِ حراست افراد خلیجی ممالک سے یہاں آئے تھے۔ تمام خلیجی ریاستوں میں سے صرف کویت ہی ایسا ملک ہے جس کے کچھ مندوبین کو گوانتاناموبے تک رسائی کی اجازت دی۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ کویت کے امریکہ سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||