BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 10:30 GMT 15:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں

خالد المقتری
بغیر کسی مقدمے کے اٹھائیس ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا
ایک یمنی شہری نے بتایا ہے کہ امریکی حکام نے اسے کس طرح مختلف ممالک میں سی آئی اے کے خفیہ جیلوں میں تین سال تک قید رکھا گیا اور قید کے دوران اس پر کس طرح سے تشدد کیا گیا۔

خالد المقتری نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ اس کو بغیر کسی مقدمے کے اٹھائیس ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور وکیل تک کوئی رسائی نہیں دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کو عراق میں دو ہزار چار میں حراست میں لیا گیا تھا جہاں ان کو پہلے ابو غریب جیل میں رکھا گیا۔

تاہم امریکہ نے خالد المقتری کو حراست میں لینے یا قید میں رکھنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

صدر جارج بش نے دو ہزار چھ میں خفیہ جیلوں کے وجود کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے جیل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی آئی اے کا ایک اہم ہتھیار تھا اور ان جیلوں میں قید افراد نظربند افراد پر تشدد نہیں کیا جاتا تھا۔

صدر بش نے سنہ دو ہزار سات میں ایک صدارتی حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نظربند افراد کے ساتھ ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک باکل قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن اس حکمنامے میں خفیہ جیلوں کو بند کرنے کا نہیں کہا گیا تھا۔

اس کے بعد سے سی آئی اے نے خفیہ جیلوں کے استعمال کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر کسی بیان سے گریز کیا ہے۔

خالد المقتری کو پچھلے سال مئی میں یمنی حکام نے رہا کیا تھا۔ رہائی کے بعد یہ ان کا پہلا انٹریو ہے۔اس انٹرویو میں انہوں نے دوران حراست ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کی تفصیل بتائی ہے۔

خالد المقتری نے بتایا کہ ان کو دو ہزار چار میں پہلی بار امریکی فوج نے فلوجہ میں واقع ایک مبینہ اسلحہ بازار سے پکڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو غیر ملکی جنگجو سمجھ کر امریکی فوجی انٹیلیجنس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کو ابو غریب لے جایا گیا جہاں ان کو پیٹا گیا، نیند سے محروم رکھا گیا، الٹا لٹکایا گیا اور کتوں سے ڈرایا گیا۔

خالد المقتری نے بتایا کہ نو روز کی تفتیش کے بعد ان کو جہاز کے ذریعے افغانستان میں سی آئی اے کے خفیہ جیل لے جایا گیا اور ان کو وہاں تین ماہ تک رکھا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جہازوں کے ریکارڈ موجود ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سی آئی اے کے لیے پروازیں چلانے والی کمپنی کا جہاز خالد کی گرفتاری کے نو روز بعد بغداد سے کابل کے لیے روانہ ہوا تھا۔

خالد المقتری نے بتایا کہ افغاستان میں ان پر مزید تشدد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا، اکثر نیند سے محروم رکھا گیا، شدید گرم اور سردحالات میں رکھا گیا اور تیز روشنی اور اونچی موسیقی اور شور سے انہیں ذہنی تکلیف پہنچائی گئی۔

 خالد المقتری نے بتایا کہ فلوجہ میں نو روز کی تفتیش کے بعد ان کو جہاز کے ذریعے افغانستان میں سی آئی اے کے خفیہ جیل لے جایا گیا اور ان کو وہاں تین ماہ تک رکھا گیا

’ یہ بلند آواز میں موسیقی نہیں تھی بلکہ ڈرانے کی آوازیں تھیں جیسے کہ ڈراؤنی فلموں میں ہوتی ہیں۔ وہاں کتے نہیں تھے لیکن یہ آوازیں تھیں۔ اور جب بھی سونے کی کوشش کرتا تو وہ دروازے کو زور زور سے مارتے۔‘

تشدد کے ان مراحل میں جب بھی تھوڑا سا وقفہ ہوتا تو وہ دوسرے کمروں میں نظربند لوگوں سے بات چیت کی کوشش کرتے۔ اسی بات چیت سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ تقریباً بیس افراد نظربند ہیںجن میں ماجد خان نامی ایک شخص بھی تھا۔

بقول خالد المقتری ماجد خان ایک اہم قیدی تھے جس کو دو ہزار چھ میں خلیج گوانتانامو منتقل کر دیا گیا۔

خالد المقتری کا کہنا ہے کہ دو ہزار چار میں ان کو متعدد قیدیوں کے ہمراہ ایک اور خفیہ جیل لے جایا گیا جو شاید مشرقی یورپ میں واقع تھا۔ وہاں وہ اٹھائیس ماہ تک قید تنہائی میں رہے۔

یورپی کونسل کو معلوم ہوا ہے کہ سی آئی اے نے پولینڈ اور رومانیہ میں سنہ دو ہزار تین اور پانچ کے درمیان خففیہ جیل چلائے تھے جہاں مشتبہ افراد سے تفتیش کی جاتی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق خالد المقتری کو تفتیش کاروں اور امریکی حکام کے علاوہ کسی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہیں کسی وکیل سے ملنے نہیں دیا گیا اور نہ ہی عالمی ریڈ کراس کے اہلکاروں سے۔

خالد المقتری کو سی آئی اے نے دو ہزار چھ میں یمن کے حکام کے حوالے کر اور انہیں مئی دو ہزار سات تک الزام عائد کیے بغیر قید میں رکھا گیا۔

ایمنسٹی کی این فٹزجیرلڈ کے مطابق’خالد المقتری کے بیان سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ امریکہ کس طرح غیر قانونی طور پر لوگوں کو قید میں رکھتا ہے اور اس قسم کی غیر قانونی حراست کی وجہ احتساب کی عدم موجودگی ہے۔‘

تشدد کے شکارتشدد کی حامی
ایک تہائی لوگ تشدد کےحامی:بی بی سی سروے
پاک فوجچھاؤنیوں میں تشدد
’پاکستان میں ریاستی تشدد میں اضافہ ہوا ہے‘
تشدد قطعی غلط ہے
’امریکہ کا قانون تشدد کی اجازت نہیں دیتا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد