تشدد پر پابندی، بش کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے ملزمان سے تفتیش کے دوران تشدد اور غیر انسانی سلوک پر پابندی لگا دی گی ہے۔ اس سرکاری حکم نامے کے مطابق دہشت گردی کے ملزمان سے تفتیش کے دوران جسمانی تشدد، ناروا سلوک، جنسی تشدد اور مذہبی عقائد کی تزہیک کو ناقابل برداشت قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی حفیہ ادراے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن کے مطابق اس حکم کے جاری ہونے سے ایجنسی کو تفتیش کے لیے ایک واضح قانونی طریقہ کار مل جائے گا، جس کی اسے تلاش تھی۔ امریکی انتظامیہ کودہشت گردی کے ملزمان سے تفتیش کے دوران روا رکھے جانے والے سلوک پر اندرونی اور بیرونی طور پر شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ سی آئی اے کی طرف سے تفتیش کے دوران اپنائے جانے والے طریقوں میں سب سے زیادہ متنازعہ طریقہ وہ تھا جس میں ملزم کو پانی کے اوپر ایک کھمبے سے باندھ دیا جاتا تھا اور ملزم کو خوف زدہ کیا جاتا تھا کہ وہ پانی میں ڈوب کر مر جائے گا۔ امریکی انتظامیہ نے تفتیش کے دوران اس طریقہ کار کے استعمال کیے جانے کا کبھی اعتراف نہیں کیا اور یہ بھی واضح نہیں کہ تفتیش کے لیے اس کی قانونی طور پر اجازت تھی۔ تاہم ڈاکٹروں کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم فزیشن آف ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر لیونارڈ روبنسٹین نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے کہا کہ سرکاری حکم ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کی ضرورت تھی وہ تھا تفتیش کے دوران ظالمانہ اور سفاکانہ ہتھکنڈوں کا مکمل خاتمہ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ناکافی ہیں، خصوصی طور پر اس وقت جب اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کئی سالوں سے حکام بالا کی اجازت سے تشدد کیا جاتا رہا ہے اور امریکی فوج انہیں استعمال کرتی رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ سی آئی اے ملزماں کو حراست میں رکھتی ہے یا ان سے تفتیش کرتی ہے۔ سی آئی کے ڈائریکٹر کے مطابق اب سی آئی اے کے اہلکاروں کو ایک اعتماد حاصل ہو جائے گا کہ وہ قانون میں رہ کر اپنے فرائض کیسے انجام دے سکتے ہیں۔ فوج کے وکلاء کے مطابق بنیادی طور پر اس حکم سے سی آئی اے کے اہلکاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا کیونکہ ان پر ملزموں کے ساتھ مبینہ طور پرناروا سلوک کرنے کے بارے میں امریکی عدالتوں میں مقدمات قائم ہونے کے خدشات تھے۔ سی آئی اے کے اہلکاروں کے مطابق ایجنسی کے ڈائریکٹر ہیڈن ملزموں سے تفتیش کے طریقہ کار کے بارے میں تحریری طور پر پالیسی جاری کریں گے اور انہوں نے وزارتِ انصاف سے بھی کہا ہے کہ ان طریقوں کے بارے میں قانونی مشورہ دیں جو کہ تفتیش کے دوران اپنائے جا سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے ڈنکن کینیڈی کے مطابق ناقدین اب بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئے قواعد مبہم ہیں اور انتظامیہ کے لیے اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ وہ ایسے طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||