BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 22:39 GMT 03:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کے نتیجے میں اعتراف کیا: قیدی
میں نے اپنے ’صیادوں‘ کو خوش کرنے کے لیے کہانیاں تراشیں: عبدالرحمٰن
گزشتہ پانچ سال سے امریکی حراست میں رہنے والے سعودی عرب کے ایک شہری نے ایک امریکی فوجی عدالت میں کہا ہے کہ اس نے تشدد کے بعد اعتراف کیا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار میں یمن میں امریکی جہاز پر بمباری میں ملوث تھے۔

عبدالرحمٰن النشیری نے جن کی عمر اکتالیس سال ہے کہا کہ انہیں دو ہزار دو میں گرفتار کیا گیا جس کے بعد پانچ برس سے ان پر تشدد ہوتا رہا۔

پینٹاگون سے ملنے والی عدالتی کارروائی پر مبنی ایک تحریر کے مطابق عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ اپنے ’صیادوں‘ کو مطمئن کرنے کے لیے انہوں نے کہانیاں تراشیں۔ تاہم عبدالرحمٰن پر تشدد کی کوئی تفیصل نہیں ہے۔

عبدالرحمٰن کے مطابق انہیں مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

عبدالرحمٰن پر الزام ہے کہ جب یمن میں امریکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس میں سترہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، وہ خلیج میں القاعدہ کی کارروائیوں کے رہنما تھے

انہیں دو ہزار چار میں یمن کی ایک عدالت نے غیر حاضری میں سزائے موت سنائی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق اس ماہ کی چودہ تاریخ کو عبدالرحمٰن کی شہادت ایک فوجی ٹرائبیونل کے سامنے پیش کی گئی جس میں ان کی قیدی کی حثیت کا تعین کیا جانا تھا۔

اس کے مطابق بالآخر انہوں نے یہ ’اعتراف‘ کیا تھا کہ انہوں نے یمن میں امریکی مفادات پر حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم پینٹاگون سے حاصل ہونے والی تحریر کے مطابق عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ ’اعتراف‘ کیا تھا۔

عبدالرحمٰن نے یہ ’اعتراف‘ بھی کیا ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ اسامہ بن لادن سے ملاقات کی اور ان سے بھاری رقوم حاصل کیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد